پاکستان کی نئی آٹو پالیسی، لگژری کے سوا تمام گاڑیاں سستی کرنے کا اعلان
پاکستان کی نئی آٹو پالیسی، لگژری کے سوا تمام گاڑیاں سستی کرنے کا اعلان
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ہفتے کو نئی آٹو پالیسی متعارف کراتے ہوئے لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتیں بتدریج کم کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پالیسی کی تفصیلات بتائیں جس کا مقصد گاڑیوں کو عام شہریوں کی پہنچ میں لانے کے ساتھ ایندھن کی درآمدات پر اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنا ہے۔
نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس مراعات، گاڑیوں کی مقامی تیاری کے اہداف، برآمدات سے مشروط مراعات اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
’لگژری گاڑیوں کے سوا تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی‘
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں متوسط اور کم متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیاں، برآمدات کا فروغ، مقامی پیداوار، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور شفافیت شامل ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پالیسی کی تیاری میں خاصا وقت دیا اور گاڑیوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی۔ یہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات تھیں۔ لگژری گاڑیوں کے سوا تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد، اسمبلی پلانٹس اور گاڑیوں کے پرزوں پر عائد ڈیوٹیز میں ہر سال بتدریج کمی کی جائے گی جس کے نتیجے میں پانچ سال بعد مسابقتی ٹیرف نافذ ہوں گے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے مطابق نئی پالیسی میں کم آمدنی والے صارفین کی ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا ہے اور ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی پیٹرول گاڑیوں کو مجوزہ تبدیلیوں سے الگ رکھا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز
ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی تین مختلف شرحیں تجویز کی ہیں۔
مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان مجوزہ شرحوں پر عمل درآمد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ان کے مطابق 50 ہزار ڈالر تک قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی، جبکہ اس سے زیادہ قیمت والی گاڑیوں کو لگژری تصور کرتے ہوئے ان پر معمول کے ٹیکس نافذ ہوں گے۔
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بینک فنانسنگ کی حد بڑھانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
ہارون اختر خان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت عام گاڑیوں کے لیے دستیاب 30 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ کی حد الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کی جائے گی جبکہ قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2030 تک نئی گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا حکومتی ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل ہونے کے قریب ہے۔
مقامی پیداوار اور برآمدات کے اہداف
نئی پالیسی کے تحت گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے مقامی سطح پر پیداوار کے اہداف مقرر کیے جائیں گے، جنہیں پورا کرنا لازمی ہوگا۔
ہارون اختر خان کے مطابق برآمدات بڑھانے کے لیے انعامات اور جرمانوں کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی کی سکیم (DLTL) کے تحت پانچ فیصد مراعات دی جائیں گی، جبکہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ مزید 10 فیصد مراعات بھی دستیاب ہوں گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک وہیکلز کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں، مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اور برآمدات کو فروغ دیا جائے گا جبکہ عام آدمی کو سستی، معیاری اور ماحول دوست سواری کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ #AutoPolicy https://t.co/VA9h66ouyG
— APP (@appcsocialmedia) November 7, 2026
تاہم ان مراعات کا حصول برآمدات اور مقامی پیداوار کے مکمل اہداف حاصل کرنے سے مشروط ہوگا۔
ہارون اختر خان نے خبردار کیا کہ ’اگر آپ اہداف حاصل نہیں کریں گے تو جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو برآمدات اور مقامی تیاری، دونوں کے مقررہ اہداف پورے کیے بغیر ڈی ایل ٹی ایل کی مراعات نہیں ملیں گی۔
ان کے مطابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ملک میں مزید پیداواری پلانٹس قائم ہوں تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
گاڑیوں کے لیے 45 اضافی حفاظتی معیارات
ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی میں اقوام متحدہ کے گاڑیوں سے متعلق ضوابط کے نظام WP.29 کے مطابق 45 اضافی حفاظتی معیارات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کے بعد پاکستان میں تیار اور استعمال ہونے والی گاڑیاں دنیا کی محفوظ ترین گاڑیوں میں شمار ہوں گی۔
دوسری جانب عطااللہ تارڑ نے کہا کہ مقامی آٹو صنعت کو کئی دہائیوں تک درآمدی ڈیوٹیز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود جدت، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور گاڑیوں کے معیار میں متوقع بہتری نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مقامی صنعت کو تحفظ دینے کا مقصد عام صارفین کو بہتر معیار، جدت اور سہولتیں فراہم کرنا تھا۔
بدقسمتی سے صنعت نے توقعات کے مطابق ترقی نہیں کی۔‘
’ایندھن کی درآمدات میں کمی‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ نئی پالیسی میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور سکوٹرز کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ان کے مطابق ان گاڑیوں کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ کاربن کریڈٹس کے ذریعے معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ضروری ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر بڑھتے ہوئے اخراجات ملکی معیشت اور عام شہریوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم ایندھن کی درآمدات پر اخراجات کم کریں تو بچائے گئے وسائل عوامی سہولتوں، بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔‘
وزیر اطلاعات کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشنز کے قیام کے لیے بھی مراعات دی گئی ہیں جن میں کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت اور سیلز ٹیکس میں کمی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جس طرح پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب آیا اسی طرح یہ پالیسی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی تبدیلی لا سکتی ہے۔‘
نئی پالیسی سے روزگار اور برآمدات بڑھانے کی توقع
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت، تکنیکی اعداد و شمار کے تجزیے اور مختلف بین الاقوامی ماڈلز کے تقابلی جائزے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
ان کے مطابق پالیسی کے ذریعے مقامی صنعت میں جدت، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور مقامی تیاری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پاکستان سے گاڑیوں کی برآمدات ممکن بنائی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار نہیں ہوں گی اور ان کی برآمدات شروع نہیں ہوں گی، ملک کو اس شعبے سے سرمایہ کاری اور روزگار کے مکمل فوائد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
وزیر اطلاعات نے نئی پالیسی کو پاکستانی شہریوں کے لیے سستی، معیاری اور ماحول دوست سفری سہولتوں کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
