پاکستان کے لیے سبق: خلیجی ممالک نے کیسے خوراکی تحفظ حاصل کیا؟
پاکستان کے لیے سبق: خلیجی ممالک نے کیسے خوراکی تحفظ حاصل کیا؟
اگر پاکستان میں خوراک کے عدم تحفظ کی وجہ پوچھی جائے تو عموماً فوری جواب قلت کو قرار دیا جاتا ہے: نہ کافی زمین، نہ کافی پانی، نہ کافی اناج۔ مگر یہ قدرتی جواب غلط ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ موازنہ اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے۔
ہر وہ خلیجی ریاست جس نے اپنے خوراکی تحفظ کا مسئلہ حل کیا، تقریباً صفر سے آغاز کر رہی تھی: نہایت محدود قابلِ کاشت زمین، تازہ پانی نہ ہونے کے برابر اور خوراکی درآمدات پر 80 فیصد سے زیادہ انحصار۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس دریائے سندھ موجود ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک ہے اور ایسی زرعی زمین بھی موجود ہے جو خلیج کی صحرائی معیشتوں کو کبھی حاصل نہیں تھی۔
بنیادی غذائی اجناس کے بیشتر شعبوں میں پاکستان پہلے ہی خالص خوراک پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس کے باوجود لاکھوں پاکستانی بدترین یا بحرانی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، ایک ایسی صورت حال جس کی باضابطہ نشاندہی 2019 سے ہوتی آ رہی ہے۔ دوسری طرف تین صحرائی معیشتیں، جن کے پاس پاکستان کے قدرتی وسائل کا محض ایک حصہ تھا، ایک ایسے سفر سے گزریں جسے خلیج خود سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے: درآمد کنندگان پیدا کنندگان بن گئے اور پیدا کنندگان برآمد کنندگان بن گئے۔
یہ جغرافیے کی کہانی نہیں۔ یہ اس بات کی کہانی ہے کہ فصل کٹنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔
پارکر میں 2019 کی مون سون بارشوں کے بعد باجرے کے کھیت کا منظر (امر گرڑو)
