دنیا 13 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 296

پاکستان افغان سرحد کی بندش کا ایک سال، کیا کھویا کیا پایا؟

پاکستان افغان سرحد کی بندش کا ایک سال، کیا کھویا کیا پایا؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 10:56 صبح

12 اکتوبر 2025 میں پاکستان افغانستان سرحد کی بندش کو ایک سال گزر چکا ہے۔ تعلقات تقریباً منجمد ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک سالہ بندش سے کیا حاصل ہوا؟

پاکستان کا بنیادی مقصد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کابل پر دباؤ ڈالنا تھا۔ بندش کے فوراً بعد نومبر اور دسمبر 2025ء میں کراس بارڈر حملوں میں کمی آئی۔ ایک تھنک ٹینک سی آر ایس ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس نومبر میں تقریباً 9 فیصد اور دسمبر میں 17 فیصد تک حملوں میں کمی دیکھی گئی۔ سکیورٹی فورسز کو کچھ ریلیف ملا۔

تاہم یہ کمی عارضی ثابت ہوئی۔ 2026 کے دوران تشدد پھر بڑھ گیا۔ تیسری سہ ماہی میں تشدد میں اموات میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر بلوچستان میں۔ ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔

پاکستان نے متعدد فضائی حملے کیے، لیکن افغانستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قابل تصدیق اور ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ تعلقات مزید خراب ہوئے اور دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس بندش کے دوران نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانسپورٹ، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں، بارڈر مارکیٹوں اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 102,886 کنٹینرز کی نقل و حرکت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی لیکن مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 11,592 کنٹینرز رہ گئی، جن کی مالیت تقریباً 367 ملین ڈالر تھی یعنی مالی سال 2022-23 کے مقابلے میں کنٹینر ٹریفک میں تقریباً 89 فیصد کمی واقع ہوئی۔

17 مارچ 2025 کو طورخم میں پاکستان افغانستان جرگے کے ارکان (جرگہ کمیٹی)