دنیا 9 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 283

نواب آف بہاولپور کتنے امیر تھے؟

نواب آف بہاولپور کتنے امیر تھے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 11:35 صبح

اسلام آباد میں گذشتہ دنوں سابق ریاست بہاولپور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پرنس بہاول خان عباسی کے گھر سے تاریخی نوادرات اور قیمتی اشیا کی چوری سے یہ سوال پھر سامنے آیا ہے کہ آخر بہاولپور کے نوابوں کے پاس کتنی دولت تھی؟ ان کے خزانے میں کیا کچھ موجود تھا؟ اور یہ خزانہ آج کدھر ہے؟ کس وارث کو کیا کچھ ملا؟

 وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے مطابق سیکٹر ایف ایٹ میں پیش آنے والی واردات میں تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی شاہی اشیا چوری ہوئیں، جن میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، چاندی کے برتن، سونے کی پلیٹیں، ریاست بہاولپور کے نشان کی حامل اشیا، چاندی کا تاریخی فریم، تلواریں اور پرانی بندوقیں شامل تھیں۔

پولیس نے پھر 5 اکتوبر کو بتایا کہ چھ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 70 سے 80 فیصد مال بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ چوری شدہ اشیا کی برآمدگی کی وجہ سے ان اشیا کی وقعت کم ظاہر کی جا رہی ہو کیونکہ جب کسی چیز کے ساتھ ’نوادرات‘ کا لفظ لگ جاتا ہے تو پھر وہ صرف سونا چاندی یا ہیرے جواہرات کی قیمت میں نہیں تولے جاتے بلکہ نوادرات کے شوقین حضرات ان کی منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ صرف ایک چوری کی داستان نہیں۔ ان اشیا کے پیچھے برصغیر کی ایک سابق ریاست کی وہ دولت پوشیدہ ہے جس کا صحیح حجم آج بھی پوری طرح سامنے نہیں آ سکا۔

نواب صاحب کے پاس کتنی دولت تھی؟

اب تک کوئی ایسا مستند سرکاری ریکارڈ نہیں ملتا جس سے معلوم ہو کہ 24 مئی 1966 کو وفات کے وقت نواب سر صادق محمد خان پنجم کی کل ذاتی دولت کتنی تھی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دولت صرف نقد رقم یا بینک اکاؤنٹس پر مشتمل نہیں تھی۔

اس میں محلات، زمینیں، شکارگاہیں، زیورات، سونا، چاندی، قیمتی برتن، ہتھیار، گاڑیاں، فرنیچر، نوادرات، سکیورٹیز اور دوسری منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں شامل تھیں۔

نواب آف بہاولپور کی ملکیت نور محل جو اب پاکستان فوج کے زیر انتظام ہے جہاں سیاحوں کو ریاست بہاولپور کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں (سجاد اظہر)