دنیا 11 ستمبر 2026 ⏱ 4 min read 👁 513

نئی ایپل واچ کا یہ فیچر متنازع ہو سکتا ہے

نئی ایپل واچ کا یہ فیچر متنازع ہو سکتا ہے

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 4:12 شام

ایپل نے نئی ایپل واچز متعارف کرائی ہیں جن میں ایک ایسا فیچر شامل ہے جس کا مقصد لوگوں کو اپنی پوری زندگی کے اہم لمحات کے نوٹس رکھنے میں مدد دینا ہے۔

نئی ایپل واچ سیریز 12 اور الٹرا 4 رواں ہفتے آئی فون ڈوو کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان گھڑیوں کو بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں سے ایک نئے فیچرز کا مجموعہ ’آڈیو انٹیلیجنس‘ ہے۔

ان فیچرز کا مقصد گھڑی میں موجود سینسرز اور ایپل کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے گھڑی پہننے والے کے اردگرد کی دنیا کے ساتھ زیادہ ذہانت سے تعامل کرنا ہے۔

ان میں سے بعض فیچرز کا استعمال نسبتاً آسان ہے، مثلاً ایک ایسا ٹول جو ممکنہ طور پر اہم آوازوں، جیسے بچے کے رونے یا شیشہ ٹوٹنے کی آواز، پر نظر رکھے گا اور گھڑی کے مالک کو خبردار کرے گا۔

اسی طرح شزام کی طرح ہر وقت فعال رہنے والا ایک فیچر لوگوں کو اردگرد بجنے والی موسیقی کو فوری طور پر شناخت کرنے کی سہولت دے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

تاہم دیگر فیچرز قدرے پیچیدہ ہیں اور ان پر تنازع بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ ان میں ’لائیو ریوائنڈ‘ اور ’سِری ریکیپ‘ نامی دو فیچرز شامل ہیں، جو دونوں گھڑی کے مائیکروفون کے ذریعے مسلسل آڈیو حاصل کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔

’لائیو ریوائنڈ‘ کا مطلب ہے کہ گھڑی مسلسل آڈیو محفوظ کرتی رہے گی تاکہ اگر آپ کسی کی بات سننے سے رہ جائیں، مثلاً تیز بولنے والے ویٹر کے بتائے گئے مینیو کی کوئی تفصیل یا کسی اجلاس میں بتائی گئی کوئی تکنیکی بات تو آپ گھڑی پر بٹن دبا کر گذشتہ 15 سیکنڈ کے دوران سنی گئی آواز کی تحریری شکل دیکھ سکیں۔

’سِری ریکیپ‘ بھی مسلسل آڈیو سنتا ہے اور پھر اسے تحریری شکل میں منتقل کر کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس کا خلاصہ تیار کرتا ہے۔

یوں یہ دن بھر ہونے والی اہم گفتگو کے مختصر نوٹس پیش کرتا ہے، جنہیں بعد میں دوبارہ دیکھا یا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

ایپل کی ویب سائٹ کے مطابق ’سِری ریکیپ آپ کے دن بھر ہونے والی گفتگو کے نوٹس پسِ منظر میں تیار کرتا ہے اور ایپل انٹیلیجنس کی مدد سے اعلیٰ سطح کے خلاصے بناتا ہے، جنہیں آپ بعد میں اپنی یادداشت تازہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاکہ آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔

’اگر آپ انہیں محفوظ نہ کریں تو آپ کے خلاصے سات دن بعد خود بخود حذف ہو جاتے ہیں۔‘

دونوں فیچرز کے حوالے سے ایپل نے زور دیا ہے کہ انہیں رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جو کمپنی کے طویل عرصے سے جاری اور واضح مؤقف کے مطابق ہے۔

اس مقصد کے لیے ’آڈیو انٹیلیجنس‘ کے فیچرز میں متعدد تکنیکی اور ڈیزائن کے حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

مثلاً ’لائیو ریوائنڈ‘ کسی بھی وقت صرف 15 سیکنڈ کی آڈیو محفوظ کرتا ہے اور اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو یہ آڈیو مستقل طور پر حذف ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص اس فیچر کو استعمال کرنے کا انتخاب کرے تو گھڑی ایک بلند آواز پیدا کرتی ہے جسے بند نہیں کیا جا سکتا تاکہ اردگرد موجود لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کی کہی ہوئی بات گھڑی کی سکرین پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح ’سِری ریکیپ‘ کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو باقاعدہ طور پر اس کی اجازت دینا ہوگی۔ اسے کسی بھی وقت بند کیا جا سکتا ہے اور اس طرح بھی سیٹ کیا جا سکتا ہے کہ یہ صرف مخصوص اوقات میں فعال ہو، مثلاً جب گھڑی کا مالک دفتر میں ہو۔

فعال ہونے کی صورت میں تمام آڈیو نجی رکھی جاتی ہے۔ اسے گھڑی کے ایک مخصوص محفوظ حصے میں محفوظ کیا جاتا ہے جس تک ایپل سمیت کوئی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔