جرائم 15 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 729

نائن زیرو: دہشت کدہ سے وحشت زدہ

نائن زیرو: دہشت کدہ سے وحشت زدہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:49 صبح

ایک طویل عرصہ کے بعد کراچی کے علاقہ عزیز آباد جانا ہوا۔ مڈل کلاس اور زیادہ تر اردو بولنے والوں کی آبادی ہے۔ کسی زمانہ میں یہاں ملک کی لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

تنگ گلیوں کے بیچ ایک چھوٹا مکان جو پارٹی کے بانی الطاف حسین کی رہائش گاہ تھی۔

 رہنما ہوں یا پارٹی کارکن اس کو مرکز اور عام طور پر ’نائن زیرو‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ نام الطاف حسین کے مکان کے ٹیلیفون نمبر کے آخری دو اعداد 90 پر رکھا گیا۔

اسی کی دہائی میں ایم کیو ایم کی بنیاد بھی اسی مکان میں رکھی گئی۔ چار دہائیوں پر محیط ’مہاجر‘ سیاست کے عروج اور زوال میں ’نائن زیرو‘ کو نیوکلس کی اہمیت حاصل رہی۔

انتخابات میں کامیابی کے جشن ہوں یا پارٹی کی مبینہ دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن یا رینجرز اور پولیس کے کریک ڈاؤن یا بانی الطاف حسین کی لندن میں خود ساختہ جلاوطنی، ایم کیو ایم کی سیاست کا محور نائن زیرو ہی رہا۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ارد گرد کے مکان، اور سامنے کا جناح گراونڈ جہاں کبھی نوجوانی میں ہم نے کرکٹ میچز کھیلے وہ بھی پارٹی کے جلسہ گاہ میں تبدیل ہو گیا۔

نائن زیرو کے عقب والی عمارت الطاف حسین کی والدہ بیگم خورشید کے نام پر رکھی گئی۔ کچھ ہی فاصلہ پر مکا چوک کے نام سے مشہور چوراہا تھا۔ ایم کیو ایم کے چاہنے والوں کے لیے طاقت کی نشانی اور دوسروں کے لیے دہشت کی علامت۔

1991 میں لی گئی اس تصویر میں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی قائد الطاف حسین حیدرآباد میں اپنی سالگرہ کی تقریب میں حامیوں کو دیکھ کر پوز دیتے ہوئے (حمید ناگوری/ اے ایف پی)