دنیا 13 اکتوبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 762

مسلح گروہ بالآخر افغان طالبان حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اسحاق ڈار کا انتباہ

مسلح گروہ بالآخر افغان طالبان حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اسحاق ڈار کا انتباہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 10:56 صبح

پاکستان نے پیر کو افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگجوؤں کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے اور ساتھ ہی ایک بار پھر خبردار کیا کہ یہ مسلح گروہ بالآخر خود طالبان کی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے باعث دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جنگجوؤں کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے جاری تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔

پاکستانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تھنک ٹینک میں کی گئی تقریر میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جولائی 2025 میں کابل کے دورے کے دوران افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کو پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا: ’میں نے انہیں شائستگی سے یاد دلایا تھا کہ اگر افغان حکام اپنی سرزمین سے متحرک دہشت گرد گروہوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہے، تو وہ دن آئے گا جب یہ گروہ ان کی اپنی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن جائیں گے۔ ‘

 انہوں نے افغانستان کے جواب کی تفصیلات نہیں دیں، لیکن افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور حل پر پروپیگنڈے کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا: ’پاکستانی حکام کا اپنی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر ڈالنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ایکس پر کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ کابل اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرے اور جنگجوؤں کے پناہ گاہوں اور معاونتی نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔

پاکستان اکثر کابل پر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اور عالمی انتہا پسند نیٹ ورک سے منسلک القاعدہ برصغیر کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کے حکمران طالبان سے الگ ہے لیکن ان کی قریبی اتحادی ہے۔ اسحاق ڈار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ فرض کیوں کیا کہ جنگجو افغان طالبان کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کو نشانہ بنانے والے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے بارہا انکار کرتی رہی ہے۔

24 ستمبر 2026 کو افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع گربز میں پاکستانی فضائی حملے کے مقام کا طالبان سکیورٹی اہلکار معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)