دنیا 5 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 575

ماسکو فارمیٹ: کیا علاقائی سفارت کاری پاک افغان کشیدگی کم کرسکتی ہے؟

ماسکو فارمیٹ: کیا علاقائی سفارت کاری پاک افغان کشیدگی کم کرسکتی ہے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 12:39 شام

رابطوں کا منقطع ہونا، سفارتی تعطل اور اس کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے جان لیوا حملے جن میں بڑی تعداد میں اموات اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات آج ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

چین کی میزبانی میں اس سال اپریل میں ارومچی میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد بظاہر دونوں ممالک کے سفارتی رابطے تعطل کا شکار ہیں۔ طویل تعطل اکثر خلا پیدا کرتے ہیں جن سے دیگر فریق فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایسے میں ماسکو فارمیٹ برائے افغانستان کی مشاورت کا آٹھواں اجلاس 5 اکتوبر 2026 کو روس میں منعقد ہو رہا ہے۔ تو کیا کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے؟ غالب جواب ہے: نہیں۔

اجلاس سے دو روز قبل میزبان روس کے کابل میں سفارت خانے نے ایکس پر بیان میں پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی عسکری کشیدگی، خصوصا بقول اس کے عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر اس طرح کا بیان اجلاس میں شریک فریقین پر واضح کرتا ہے کہ ان کا میزبان اس صورت حال سے خوش نہیں۔

روسی حکام کے مطابق اجلاس میں افغانستان، پاکستان، چین، انڈیا، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے جبکہ مصر اور بیلاروس بطور مہمان موجود ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف افتتاحی خطاب کریں گے اور طالبان وفد کی قیادت امیر خان متقی کریں گے۔

پاکستان کی اجلاس میں نمائندگی افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے صادق خان کریں گے جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی ملاقات ابھی طے نہیں ہے لیکن اس کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

محض ایک سفارتی اجلاس نہیں

پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق خان 16 اپریل 2025 کو کابل میں افغان طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے گفتگو کر رہے ہیں (باختر)