دنیا 28 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 374

معافی کے باوجود ایمباپے بدستور چین میں تنقید کی زد میں

معافی کے باوجود ایمباپے بدستور چین میں تنقید کی زد میں

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 9:47 شام

فرانسیسی فٹ بالر کیلین ایمباپے کی جانب سے ماؤ زے تنگ سے متعلق اپنے تبصروں پر معافی مانگنے کے باوجود چین کے سوشل میڈیا پر بدھ کو غصہ کم نہ ہو سکا۔ ان تبصروں کے نتیجے میں وہ چین کی بڑی مارکیٹ میں کئی تجارتی معاہدوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

چین کے سابق رہنما کی وفات کے 50 سال بعد بھی ماؤ کا مذاق اڑانا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ کئی چینی برانڈز نے ایمباپے سے تعلق ختم کر دیا ہے جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے سپین کی فٹ بال لیگ کی نشریات بھی منسوخ کر دی ہیں۔

ریال میڈرڈ کے کھلاڑی نے منگل کو اپنے اس بیان پر معافی مانگی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان سے متعلق انٹرنیٹ پر سب سے مضحکہ خیز میم وہ تھی جس میں ان کے چہرے کو فوٹو شاپ کے ذریعے ’کسی شخص، میرے خیال میں وہ کوئی چینی آمر ہے‘ کے چہرے پر لگا دیا گیا تھا۔ بظاہر یہ اشارہ ماؤ زے تنگ کی جانب تھا۔

ایمباپے کا اصل مذاق چین کے سخت کنٹرول والے سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ نہیں کیا گیا، یا اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ سرکاری میڈیا نے بھی ماؤ کا کوئی حوالہ دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ فٹ بالر نے ’چین سے متعلق نامناسب ریمارکس‘ دیے تھے۔

تاہم بدھ کو بھی ایمباپے کو چینی صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ایک صارف نے لکھا: ’ان کے ریمارکس چین اور چینی عوام کے لیے تکلیف دہ تھے، اس لیے ان کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

20 نومبر 2025 کو بیجنگ میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کا ایک اہلکار چیئرمین ماؤزے تنگ کے پورٹریٹ کے پاس پہرہ دے رہا ہے (روئٹرز)