لوبان سے تیل تک: کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟
لوبان سے تیل تک: کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟
یمن کی ریاست حضر موت میں لگ بھگ 1800 سال پہلے ایک بادشاہ ایل عزیلط کی حکومت ہوا کرتی تھی۔
یہاں کے صوبہ شبوا میں بیسویں صدی کے اوائل میں ایک کتبہ دریافت ہوا، جس پر لکھا ہوا تھا کہ شاہی تقریب میں ایک ہندوستانی وفد نے بھی شرکت کی ہے۔ یہ ہندوستانی یقیناً اس وقت کے تاجر ہوں گے جو یمن سے اس کی مشہور خوشبو لوبان خرید کر اسے ہندوستان میں فروخت کرتے تھے جبکہ اس کے بدلے میں ہندوستانی ریشم، کپڑے کی مصنوعات اور مصالحہ جات یمن لے کر جاتے تھے۔ یہاں سے یہ اشیا افریقہ، روم اور یورپ پھر تک جاتی تھیں۔
اس تجارت سے سبا اور حِمیر جیسی یمنی سلطنتوں نے کافی مالی فوائد حاصل کیے۔ ان ریاستوں کی جغرافیائی اہمیت کے پیشِ نظر جب کبھی یہ علاقہ تجارت کے لیے غیر محفوظ تصور ہوا تو یہاں بڑی طاقتوں نے لشکر کشی بھی کی۔
کل یہ سمندری گزر گاہ لوبان اور ہندوستانی مال کی ترسیل کے لیے اہم تھی اور آج اس کی جگہ تیل، گیس اور صنعتی خام مال نے لے لی ہے۔ قدیم تجارتی جہازوں کی جگہ دیوہیکل آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز آ گئے ہیں لیکن جغرافیہ وہی ہے۔
خلیج عرب سے نکلنے والے تیل کو دنیا تک پہنچانے کے لیے آبنائے ہرمز اہم ہے جبکہ خلیج عدن سے بحیرۂ احمر اور نہرِ سوئز کی طرف جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔ یہ دونوں راستے الگ ہیں مگر عالمی معیشت کے لیےایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان میں سے کسی ایک میں جنگ، ناکہ بندی یا جہازوں پر حملے ہزاروں میل دور کے ملکوں میں تیل کی قیمتوں، صنعت، خوراک اور مال برداری کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی ان راستوں سے عالمی تجارت متاثر ہوتی تھی تو ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ اس وقت کی عالمی طاقتیں یہاں لشکر کشیاں کرتی رہی ہیں۔
27 جولائی 2025 کو عمان کے جنوبی علاقے کی وادی ڈوکہ میں ایک کسان لوبان کے درخت سے رس (یا گوند) جمع کر رہا ہے (اے ایف پی)
