لارڈز کی شکست: پی سی بی میں استعفے، نوٹس اور الزام تراشیاں
لارڈز کی شکست: پی سی بی میں استعفے، نوٹس اور الزام تراشیاں
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے دورے نے صرف شکستوں کی تعداد نہیں بڑھائی بلکہ اس دورے کے اختتام سے قبل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سیٹ اپ میں بھونچال آ گیا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کی شکست نے اس قدر مایوس کیا کہ بورڈ اپنی ہی روایات ہی بھول گیا۔ ماضی میں ہر دورے کے اختتام پر ٹیم کا اچھا برا محاسبہ ہوتا تھا لیکن موجودہ دورے کے خاتمے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ بہت سی تبدیلیاں کر کے شاید بورڈ توقع کر رہا ہے کہ شکستوں کا بوجھ ٹیم تک محدود رہے گا۔ لیکن شاید وہ بھول گیا کہ لوگ اب کرکٹ سے اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ اس بارے میں بات بھی نہیں کرتے۔
سات کھلاڑیوں، محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو وطن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ان میں سے پانچ کی جگہ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے ابھی تک پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔
بورڈ کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کے پیچھے کون ہے، یہ ابھی واضح نہیں، لیکن شکستیں کچھ بڑے لوگوں کا کیریئر ضرور ختم کر دیں گی۔
سیلیکٹرز کو نوٹس اور استعفوں کی بارش
انگلینڈ کے ڈین لارنس پاکستان کے محمد عباس کی گیند پر بولڈ ہو گئے، لندن میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز، 30 اگست 2026 (اے پی)
