دنیا 23 اگست 2026 ⏱ 4 min read 👁 721

’کیا میرے بیٹے کی قیمت 15 لاکھ روپے ہے؟‘ زخمی انڈین کیڈٹس کے اہلخانہ انصاف کے منتظر

’کیا میرے بیٹے کی قیمت 15 لاکھ روپے ہے؟‘ زخمی انڈین کیڈٹس کے اہلخانہ انصاف کے منتظر

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 11:48 صبح

جب پرتھم مہالے نے آخری بار اپنی والدہ سے بات کی تو وہ انڈیا کی سب سے بڑی فوجی اکیڈمی میں اپنی زندگی کے معمول کے بارے میں بتا رہے تھے اور آنے والی انٹر سکواڈرن باکسنگ چیمپیئن شپ میں حصہ لینے کے لیے پُرجوش تھے۔

یہ ان کی والدہ کی اپنے بیٹے سے آخری گفتگو تھی۔ 16 اکتوبر، 2023 کو رات 11 بجے ان کے والدین کو فون پر بتایا گیا کہ پرتھم کے سر پر شدید چوٹ لگی ہے اور فوری آپریشن کرنا پڑا ہے۔

والدین فوراً گھر سے نکلے اور رات بھر 650 کلومیٹر کا سفر کرکے صبح ساڑھے چار بجے ہسپتال پہنچے۔ پرتھم کے والد گورکھ مہالے کے مطابق ڈاکٹروں نے ابتدا میں بتایا کہ ان کا بیٹا ’تشویش ناک حالت میں ہے لیکن آپریشن کامیاب رہا ہے۔‘

وہ 24 گھنٹے انتظار کرتے رہے، تاہم اس کے بعد ایک اور فون آیا۔ ’انہوں نے کہا کہ وہ نہیں رہے۔‘

پرتھم مغربی انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں پلے بڑھے اور فوجی افسر بننا چاہتے تھے۔ یہ ایک باوقار اور اچھی آمدن والا کیریئر تھا جو ان کے خاندان کی زندگی بدل سکتا تھا۔

انہوں نے اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی عبور کر لی تھی، جب انہیں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں داخلہ مل گیا۔ اکیڈمی کا امتحان سال میں دو بار ہوتا ہے، جس میں 10 لاکھ سے زیادہ امیدوار شرکت کرتے ہیں، لیکن ان میں سے نو ہزار سے بھی کم امیدوار منتخب ہوتے ہیں۔

پرتھم کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک ان کی موت کے حالات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملی اور نہ ہی اس انکوائری کی رپورٹ دی گئی جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد تحقیقات ہوں گی۔

تربیت کے دوران موت کے بعد پرتھم کے خاندان کو ماہانہ صرف 14 ہزار انڈین روپے (107 پاؤنڈ) پنشن ملتی ہے، جو انڈیا میں ایک غیر ہنر مند سرکاری ملازم کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔

پرتھم کے والد کے مطابق خاندان کو بتایا گیا تھا کہ این ڈی اے کے کیڈٹ کے لیے 15 لاکھ روپے (11,563 پاؤنڈ) کا انشورنس کور ہے جبکہ پرتھم ایک مرتبہ ملنے والے 12 لاکھ روپے (9,250 پاؤنڈ) کے معاوضے کے بھی اہل تھے۔

مہالے سوال کرتے ہیں ’جس لڑکے نے انڈیا کے سب سے مشکل فوجی امتحانات میں سے ایک پاس کیا، اس کی زندگی کی قیمت صرف 15 لاکھ انڈین روپے کیسے ہوسکتی ہے؟‘

پرتھم کی کہانی ایک بڑے مسئلے کا حصہ ہے، جس میں سینکڑوں نوجوان انڈیا کی اہم فوجی اکیڈمیوں میں داخل ہوتے ہیں لیکن کمیشن یافتہ فوجی افسر بننے سے پہلے ہی تربیت چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

انڈین مسلح افواج کے حاضر سروس اور سابق اہلکاروں کو دوران ملازمت زخمی ہونے اور طبی بورڈ کی جانب سے فوجی خدمات کے لیے نااہل قرار دیے جانے کی صورت میں مالی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جسے ’بورڈڈ آؤٹ‘ کہا جاتا ہے۔

تاہم جو نوجوان ابھی تربیت حاصل کر رہے ہوں اور انہیں باضابطہ طور پر فوجی خدمات کے لیے کمیشن نہ ملا ہو، وہ اسی نوعیت کی سہولیات کے اہل نہیں ہوتے۔

عدالتی کارروائی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1985 سے اب تک انڈیا کی بڑی فوجی اکیڈمیوں سے تقریباً 500  افسر کیڈٹس تربیت کے دوران معذوری کا شکار ہونے کے بعد طبی بنیادوں پر فارغ کیے جا چکے ہیں۔

صرف نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں 2021 سے جولائی 2025 کے درمیان تقریباً 20 کیڈٹس کو طبی بنیادوں پر فارغ کیا گیا۔

انکور چترویدی، جنہیں خود 1996 میں این ڈی اے سے طبی بنیادوں پر فارغ کیا گیا تھا، برسوں سے ان کیڈٹس کے حقوق کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

ان کے مطابق مسئلے کی جڑ بظاہر ایک سادہ معاملے میں ہے: حکومت زخمی کیڈٹس کو دی جانے والی رقم کو کس نام سے پکارتی ہے۔

زخمی کیڈٹس کو ماہانہ رقم ’ایکس گریشیا‘ کے نام سے دی جاتی ہے، جو بنیادی طور پر حکومت کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر دی جانے والی رقم ہے جبکہ سابق فوجی اہلکاروں کو معذوری کی پنشن ملتی ہے۔

چترویدی کہتے ہیں ’ایک کیڈٹ کو معذوری کی پنشن دی جاتی ہے لیکن اسے معذوری کی پنشن نہیں کہا جاتا، اسے ماہانہ ایکس گریشیا کہا جاتا ہے۔ یہ بے معنی نام ہی تمام مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔‘

چترویدی کو اپنی چوٹ آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ وہ جنوری 1993 میں ساڑھے 17 برس کی عمر میں این ڈی اے میں شامل ہوئے تھے۔

تربیت کے چھٹے مرحلے میں باکسنگ کے دوران ایک مکا ان کی کمر میں لگا۔

31 مارچ، 2021 کو انڈین فوج کی ملٹری پولیس کور کے کیڈٹس بنگلورو میں تربیت میں حصہ لیتے ہوئے (اے ایف پی)