کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ٹرمپ سٹریٹ رکھ دینا چاہیے، صدر ٹرمپ کا سوال
کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ٹرمپ سٹریٹ رکھ دینا چاہیے، صدر ٹرمپ کا سوال
ایران اور امریکہ نے بدھ کو ہفتوں میں ہونے والی شدید ترین فوجی جھڑپوں کے بعد ایک دوسرے کو دھمکیاں دی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپوں میں ایران میں شادی کی ایک تقریب پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس کا الزام تہران نے واشنگٹن پر عائد کیا اور اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے رات گئے ایرانی اہداف پر ’بہت شدید حملہ‘ کیا ہے اور ‘ہم جب چاہیں ایک اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
دوسری جانب ایران کے سکیورٹی چیف نے خبردار کیا کہ امریکہ کو اس جنگ میں ایک ’نئی حکمت عملی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضایی نے ایکس پر لکھا کہ ’آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ میدان جنگ، سفارت کاری اور اقتصادی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے میں ایران کی نئی حکمت عملی آپ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔‘
نئے حملوں کی دھمکی دینے کے علاوہ، ٹرمپ نے بدھ کو تیل کی اس اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی بھی تجویز دی جسے تہران نے چھ ماہ سے مؤثر طریقے سے بند کر رکھا ہے۔
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا: ’اب جب کہ یہ امریکہ کے کنٹرول میں ہے، تو کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ٹرمپ سٹریٹ رکھ دینا چاہیے؟؟؟‘
