دنیا 6 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 634

کیا انتشار زدہ دنیا میں سفارت کاری کی اہمیت باقی ہے؟

کیا انتشار زدہ دنیا میں سفارت کاری کی اہمیت باقی ہے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 5:44 صبح

اکیسویں صدی کے آغاز تک، امریکہ واحد سپر پاور بن چکا تھا۔ اس کا سب سے بڑا حریف سوویت یونین 1991 میں بکھر چکا تھا۔ چین ابھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔ بین الاقوامی تعلقات میں باہمی رابطے اور ایک دوسرے پر انحصار کا جذبہ سرایت کر چکا تھا۔

عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کا دور شروع تھا اور دنیا ایک ’عالمی گاؤں‘ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سفارت کاری بنیادی ذریعہ بن کر ابھری۔ اقوام متحدہ نے بچوں، خواتین، انسانی حقوق، سماجی ترقی اور ماحولیات جیسے موضوعات پر بڑے پیمانے پر کانفرنسوں کا انعقاد کیا تاکہ ترقی کے لیے ایک عالمی اور اصولی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

پھر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ واقعات پیش آئے۔ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی۔ امریکہ نے القاعدہ کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان اور پھر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عراق پر حملہ کیا۔ سفارت کاری پس منظر میں چلی گئی۔

دیگر بڑی طاقتوں نے بھی بین الاقوامی قوانین کی پروا کیے بغیر، یکطرفہ اور کھلے عام اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔ دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں اضافہ ہونے لگا۔ دنیا بدلنے لگی۔ عالمگیریت کا جذبہ ماند پڑ گیا۔ قوموں پر شدید قوم پرستی چھا گئی۔ عوامی مقبولیت کے دعوے دار ایسے رہنما ابھرے جنہوں نے مذہبی، نسلی، لسانی یا حتیٰ کہ تارکینِ وطن کی حیثیت کی بنیاد پر اقلیتوں کے خلاف نفرت کا زہر اگلا۔ 1945 سے قائم عالمی نظام انتشار کا شکار ہو گیا۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن 18 نومبر 2025 کو ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)