کشمیر کے آغا کی سیاست
کشمیر کے آغا کی سیاست
’نیشنل کانفرنس نے عوامی منڈیٹ کا مذاق اُڑایا ہے، عمر عبداللہ نہ صرف نا اہل ہیں بلکہ بے غیرت بھی، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے انتخابی مہم میں مجھے استعمال کرکے ووٹ حاصل کیے، پھر بی جے پی کی زبان استعمال کرکے ووٹروں کے جذبات سے کھیلا گیا، جس کی عوام کو قطعا اُمید نہیں تھی، جب میں نے پارٹی میں رہ کر یا پارلیمان میں آئینی حقوق کی بحالی کی بات کی تو مجھے باغی قرار دیا، اگر کسی میں مرکزی سرکار کی پالیسی کے خلاف بات کرنے کی جرت ہے تو اس کو غداری کا لیبل دیا جاتا ہے۔‘
یہ تھے وہ کلمات جن کا آغا روح اللہ نے چند روز پہلے اپنے آبائی علاقے بڈگام میں ایک بڑا جلسہ بلا کر اظہار کیا اور خطاب کے دوران 2010 میں مارے جانے والے نوعمر طفیل متو کے والد کے ہاتھوں میں پرچہ تھما کر نیشنل کانفرنس اور پارلیمان سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
اس روز روح اللہ اپنے والد کی برسی بھی منا رہے تھے، جنہیں دو دہائی قبل ایک حملے میں مار دیا گیا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
آپ کو یاد ہوگا 2010 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران 120 لڑکوں کو جان سے مارا گیا تھا، جب روح اللہ نیشنل کانفرنس میں وزیر کی حثیت سے شامل تھے۔
بعض حلقوں نے آغا روح اللہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے طفیل متو کی موت کا سیاسی فائدہ اٹھا کر ان کے والد کے ہاتھوں میں استعفیٰ دیا تاکہ عوام کے جذبات کو ابھارا جاسکے، حالانکہ وہ اس جرم میں برابر کے شریک رہے ہیں۔
Operation Dehkaan (دہقان)۔ Thanks to Honourable Speaker Lok Sabha for accepting my resignation. https://t.co/4YnmyXy4My
— Aga Syed Ruhullah Mehdi (@RuhullahMehdi) November 5, 2026
آغا روح اللہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طفیل متو یا دوسری اموات کا ذکر اپنی سرکار کے ساتھ اور پھر پارلیمان میں کیا ہے اور وہ کبھی کسی کی موت پر سیاست نہیں کرتے۔
آغا روح اللہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں اس وقت لیڈرشپ کا شدید خلا ہے اور نوجوانوں کی اکثریت ایک نئی قیادت کی تلاش میں ہے۔
انڈیا میں کاکروچ پارٹی کے حالیہ مظاہروں نے دوسرے علاقوں کی طرح کشمیر کو بھی متحرک کردیا ہے۔
بی جے پی نے آزادی کے خواب کو دفنانے کی آہنی پالیسی اپنائی لیکن اندرونی خود مختاری چھین کر اس نے اس خطے کو جس طرح سیاسی طور پر بے اختیار کردیا ہے، اسے لوگ ماننے کے لیے تیار نہیں، بھلے ہی وہ خاموش نظر آ رہے ہوں۔
خطے میں اندرونی خودمختاری بحال کرنے کا مطالبہ تقریباً ہر شہری نے کیا ہے اور جس کو ایجنڈا بنا کر نیشنل کانفرنس نے دو سال قبل انتخابی کامیابی حاصل کی، جس میں روح اللہ نے بھرپور کردار نبھایا تھا مگر نیشنل کانفرنس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے پر زور دیا۔
اندرونی خود مختاری کی بحالی کی خواہش کے پیش نظر روح اللہ بڑی تعداد میں لوگ جلسے میں جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اس نظریے کو لے کر بیشتر پڑھے لکھے نوجوان ان سے جڑ رہے ہیں۔
انہوں نے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے باضمیر، دیانت دار، باہمت اور پڑھے لکھے لوگوں کو اپنے کاروان میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
