کراچی: بیٹے کے ساتھ ’سماجی رویوں سے لڑتی‘ فوڈ ڈیلیوری رائیڈر
کراچی: بیٹے کے ساتھ ’سماجی رویوں سے لڑتی‘ فوڈ ڈیلیوری رائیڈر
کراچی میں ہر شام کو چھ بجے سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ سائرن اور ہارن کی آوازیں سنائی گھر کی طرف لوٹتے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ بھاگتے ہوئے شہر کی ہر ایک سڑک پر الگ منظر دکھائی دیتا ہے۔
ایسے میں ایک موٹر سائیکل، جس کی پشت پر فوڈ ڈیلیوری سروس فوڈ پانڈا کا گلابی رنگ بیگ بندھا ہوتا ہے، اس پر سوار ہوتی ہیں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر مہک۔ وہ ایک ایسی ماں ہیں جن کی جنگ اپنے اور بچوں کے مستقبل کے لیے ہے۔
مہک کے لیے دن کے آٹھ گھنٹے چولہا سنبھالنے اور گھریلو ذمہ داریاں پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک امتحان ہوتے ہیں۔
شام ہوتے ہی جب اکثر لوگ تھکن اتارنےکا سوچ رہے ہوتے ہیں، مہک اپنے سات سال کے بیٹے کو پیار سے تھپتھپا کر اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھاتی ہیں تو ان کی زندگی کی تگ و دو کا نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔
وہ کوئی عام خاتون نہیں بلکہ وہ معاشرے میں خود داری اور ہمت کی ایک نئی تعریف لکھ رہی ہیں۔
مہک کے لیے دن کے آٹھ گھنٹے چولہا سنبھالنے اور گھریلو ذمہ داریاں پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک امتحان ہوتے ہیں (صالحہ فیروز خان/انڈپینڈنٹ اردو)
