کوٹ لکھپت جیل میں کھانے کی تقسیم پر جھگڑے میں قیدی کی موت، مقدمہ درج
کوٹ لکھپت جیل میں کھانے کی تقسیم پر جھگڑے میں قیدی کی موت، مقدمہ درج
لاہور میں واقع کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ کے مطابق بدھ کو کھانے کی تقسیم کے دوران قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی کی موت جبکہ ایک زخمی ہوگیا، جس کا مقدمہ درج کر کے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کامران مقبول نے تھانہ کوٹ لکھپت میں درج مقدمے میں موقف اپنایا کہ بدھ کی شام سات بجے کے قریب قیدیوں کے دو گروپوں میں یہ لڑائی کھانے کے برتن گم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
بقول کامران مقبول: ’ایک گروپ میں دو قیدی تھے جبکہ دوسرے میں تین قیدی تھے۔ قیدی محمد اشرف اور فلک شیر کی لڑائی محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود سے ہوئی۔ جھگڑا کھانے کے برتن گم ہونے پر ہوا، جو شدت اختیار کر گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’قیدی عثمان اور ان کے ساتھی قیدیوں نے سٹیل کے مگ سے بنے تیز دھار آلے سے اشرف اور ان کے ساتھی پر حملہ کیا۔ حملے میں محمد اشرف اور فلک شیر شدید زخمی ہوئے۔‘
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق دونوں زخمی قیدیوں کو پہلے جیل ہسپتال اور پھر جنرل ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا، جہاں قیدی محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ فلک شیر زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’حملہ کرنے والے قیدیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘
پولیس نے تینوں قیدیوں کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ مقتول قیدی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔
جیل انتظامیہ کے مطابق جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے میں جان سے جانے والا 42 سالہ قیدی محمد اشرف ولد برکت علی قتل کے ایک مقدمے میں زیر دفعہ 302 کی سزا کاٹ رہا تھا۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ توصیف صبیح گوندل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے پر محکمہ داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی انکوائری ٹیم مقرر کر دی ہے، جو تین ڈی آئی جی لیول کے افسران پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’زخمی قیدیوں اور جیل عملے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ کھانے کی تقسیم کے دوران پیش آیا ہے، جس کی مکمل اور ہر پہلو سے انکوائری کی جا رہی ہے۔‘
پاکستانی پولیس اہلکار 17 اکتوبر 2018 کو لاہور میں کوٹ لکھپت جیل کے باہر ایک چیک پوسٹ پر پہرہ دے رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)
