کنٹینرز کی تلوار کب ہٹے گی؟
کنٹینرز کی تلوار کب ہٹے گی؟
گذشتہ روز تک سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال شاید یہی تھا: پی ٹی آئی اسلام آباد آ رہی ہے یا نہیں؟
کبھی کہا جا رہا تھا احتجاج ہر صورت ہو گا، پھر اچانک اطلاعات سامنے آئیں کہ مارچ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ جمعے کو بالآخر پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف 27 ستمبر کو ہونے والا لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ بدلنے سے بے چینی بھی ختم ہوگئی؟ شاید نہیں۔
احتجاج تو ابھی شروع ہوا نہیں، مگر اس کے اثرات پہلے ہی سڑکوں، بازاروں، دفاتر، کاروبار اور عام شہریوں کی زندگیوں میں دکھائی دینے لگے۔
اسلام آباد کی سڑکوں خاص طور پر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے کنارے کنٹینرز کھڑے ہیں۔ بعض اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں ہیں۔ اسلام آباد سے پشاور موٹر وے بند ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں رہنے والوں کو گھر سے نکلتے ہی ذہن میں کہیں نہ کہیں راستے بند ہونے کا خدشہ ضرور ہوتا ہے اور یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کون سا راستہ کھلا ہے اور کون سا بند۔
حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے تھے جبکہ دارالحکومت میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔
اب احتجاج مؤخر ہوگیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کنٹینرز کب ہٹیں گے؟ راستے کب معمول پر آئیں گے؟ اور شہری کب سکون سے اپنی روزمرہ زندگی کی طرف واپس جائیں گے؟ یہ سوال صرف اسلام آباد کا نہیں۔
