دنیا 29 اگست 2026 ⏱ 3 min read 👁 784

کمالیہ یونیورسٹی میں زرعی فضلے سے توانائی کے منصوبے کا آغاز

کمالیہ یونیورسٹی میں زرعی فضلے سے توانائی کے منصوبے کا آغاز

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 5:43 شام

برطانوی حکومت کے انوویٹو یو کے انرجی کیٹالسٹ (Innovate UK Energy Catalyst) پروگرام کے تحت 46 کروڑ روپے کی گرانٹ سے یونیورسٹی آف کمالیہ میں زرعی فضلے کو توانائی اور دیگر مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے منصوبے سیفر پلس (Safer Plus) کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے بڑے منصوبے سے ماحول دوست توانائی کے حصول کے ساتھ دیہی خواتین کے لیے بالخصوص روزگار کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان کی جامعات اور ٹیکنیکل اداروں میں غیر ملکی اداروں کی جانب سے مختلف انداز میں تعمیر و ترقی اور طلبہ کی مہارت میں اضافے کے لیے تعاون تو جاری رہا ہے، لیکن براہ راست کسی نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے عملی طور پر کام کرنے والے منصوبوں کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اسی بنیاد پر برطانوی حکومت کے پروگرام کے تحت کمالیہ یونیورسٹی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ اہم ہے۔

نارتھمبریا یونیورسٹی برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جبران حالق نے بتایا کہ ’سیفر پلس منصوبے میں چار شراکت دار ہیں جس میں برطانیہ کی یونیورسٹی اور ایک نجی کمپنی جبکہ کمالیہ یونیورسٹی اور ایک پاکستانی کمپنی شامل ہیں۔اس کا بنیادی مقصد زرعی فضلہ، جسے یہاں جلا دیا جاتا ہے، کو استعمال کر کے صاف توانائی بنانی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یونیورسٹی آف کمالیہ ہمارے اس منصوبے میں اہم شراکت دار ہے۔ یہ جنوبی پنجاب جیسے زرعی علاقے میں قائم ہے یہاں زرعی فضلہ بڑی مقدار میں موجود ہے، اسی لیے اس کا انتخاب کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب میں بائیو گیس کی سپلائی چین چلانے کے لیے خواتین کو معاوضے پر شرکت کا موقع دیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبران کے بقول: ’فنڈنگ کا مرحلہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ 300 میں سے صرف تین کو فنڈز ملنے تھے۔ ہمارا منصوبہ اس لیے منظور ہوا کہ یہاں شاندار مواقع موجود تھے۔‘

وائس چانسلر کمالیہ یونیورسٹی یاسر نواب کے مطابق ’ہمارے ملک کو معیشت کے ساتھ ماحولیات کا بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے معاشی اور ماحولیات کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کو برطانوی حکومت نے مالی امداد دی ہے، جس کے ذریعے ہم کمالیہ یونیورسٹی میں فیکٹری بنا رہے ہیں۔ اس میں زرعی فضلے سے ایسا کوئلہ تیار ہوگا جو آلودگی پھیلانے کا باعث نہیں بنے گا۔ اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ہم توانائی اور دیگر مصنوعات بھی پیدا کریں گے۔ اس سارے معاملے میں ماحولیاتی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔‘

یاسر نواب کے مطابق: ’سیفر پلس منصوبے سے نہ صرف توانائی حاصل ہوگی بلکہ اس علاقے کے لوگوں خاص طور پر خواتین کے لیے روزگار کے موقع بھی پیدا ہوں گے۔ پھر ہماری یونیورسٹی میں زیر تعلیم متعلقہ طلبہ کو بھی عملی طور پر اس منصوبے میں کام سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘

کمالیہ یونیورسٹی میں شروع ہونے والے اس منصوبے میں خدمات دینے والی طالبہ تحریم ذوالفقار کہتی ہیں کہ اس منصوبے سے نہ صرف ان کے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ اس سے صاف توانائی بھی میسر ہوگی۔

وائس چانسلر کمالیہ یونیورسٹی یاسر نواب کے مطابق سیفر پلس منصوبے سے نہ صرف توانائی حاصل ہوگی بلکہ اس علاقے کے لوگوں خاص طور پر خواتین کے لیے روزگار کے موقع بھی پیدا ہوں گے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)