خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن یا ہزارہ صوبہ؟
خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن یا ہزارہ صوبہ؟
اگر خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے ایک الگ صوبہ بنانے کے ڈسکورس کا تجزیہ کیا جائے تو چھوٹے صوبے بنانے کا بیانیہ اور اغراض و مقاصد کافی حد تک واضح ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مرکزی دھارے کے میڈیا میں پختونخوا کو توڑ کر ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کے مسلسل بیانیے کی بنیاد کیا ہے؟ مرکزی دھارے کا میڈیا یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ بہتر انتظام و انصرام کے لیے چھوٹے صوبے بنانا ضروری ہے، لہٰذا ہزارہ ڈویژن کو بھی صوبہ بنایا جانا چاہیے۔ لیکن یہ مؤقف نہ کسی مضبوط سیاسی دلیل پر قائم ہے، نہ اسے ثقافتی شناخت کی بنیاد پر واضح جواز حاصل ہے اور نہ ہی اس کے حق میں کوئی مضبوط معاشی دلیل موجود ہے۔
اگر دنیا اور خطے کے ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی مثال سامنے رکھی جائے تو انڈیا میں راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور اتر پردیش جیسے بڑے صوبے/ریاستیں موجود ہیں، جن میں سے بعض کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ پورا پاکستان ان میں سما سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی ریاستوں الاسکا اور ٹیکساس کا رقبہ بھی بہت وسیع ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
طرفہ تماشا یہ ہے کہ 1950 کی دہائی میں ہمیں طاقت و اختیار کے انہی مراکز سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان کی ترقی و بقا کے لیے دو بڑے صوبوں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا وجود بہت ضروری ہے۔
پہلے بھی ان کا ہدف مرکزیت پسند بیانیے کے ذریعے قومی وحدوں کی شناختوں کو توڑ کر وسائل و حکمرانی پر قبضہ کرنا تھا اور آج چھوٹے صوبوں کا ڈسکورس بھی اسی مقصد کے لیے ہے۔ پہلے بھی عوامی جمہوری حکمرانی پر ضرب لگانا تھا اور آج بھی ہے۔
پہلے بھی اس سے معاشی بدحالی، غربت و افلاس، نابرابری اور قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہوگا۔ پہلے بھی اشرافیہ ہی مضبوط ہوئی تھی اور آج بھی وہی ہوگا۔ اس ڈسکورس کو آگے بڑھانے والے یہ بنیادی حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ پاکستان نے صوبے نہیں بنائے بلکہ صوبوں نے مل کر پاکستان بنایا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہزارہ کے ان علاقوں کو الگ دیکھا جائے جہاں پشتو، شینا اور انڈس کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں، تو جن چند اضلاع اور تحصیلوں میں ’ہزارہ صوبہ‘ بنانے کا مطالبہ زیادہ زور و شور سے کیا جاتا ہے، وہاں گورننس کا مسئلہ بھی نسبتاً کم ہے۔
ایبٹ آباد نہ سڑکوں کے حوالے سے پسماندہ ہے، نہ ہسپتالوں کے معاملے میں محروم، نہ تعلیمی اداروں کے اعتبار سے کمزور ہے اور نہ ہی روزگار یا امن و امان کے حوالے سے وہاں کوئی ایسا غیر معمولی بحران موجود ہے جو الگ صوبے کے قیام کو ناگزیر بناتا ہو۔
چونکہ انتظامی یا گورننس کا استدلال زیادہ وزن نہیں رکھتا، اس لیے وہاں بعض لوگوں کو اس بنیاد پر متحرک کیا گیا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کی زبان، ثقافت اور نسل پختونخوا کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے، لہٰذا اسے الگ صوبہ ہونا چاہیے۔ چونکہ ہزارہ کا رخ ایک طویل عرصے سے پختونخوا سے ہٹانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہے، اس لیے بعض لوگ اس قسم کے نعروں سے متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔
نسلی اور مذہبی بنیادوں پر قائم پروپیگنڈا لوگوں کو جذباتی طور پر زیادہ تیزی سے اپنی طرف کھینچتا ہے، اسی لیے نسلی اور لسانی بیانیے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ شاید ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع کی واحد زبان ہندکو ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہر وفاقی اکائی میں متنوع لسانی و ثقافتی شناختوں کو تسلیم کرنا اور وسائل و پیداوار اور نمائندگی میں ان کو منصفانہ حصہ دینا ضروری ہے۔
اگرچہ پختونخوا میں قانونی طور پر ہندکو کو تعلیم کی زبان کا درجہ بھی دیا گیا ہے، اس کے باوجود بعض حلقے ہندکو کی بنیاد پر نسل پرست سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اگر ہزارہ ڈویژن میں زبانوں کی حقیقی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع نظر آتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 25 مارچ 2022 کو جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق آئینی ترمیم کا بل اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کر رہے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری بھی موجود ہیں (قومی اسمبلی)
