خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد دہشت گردی، بنیادی سہولتوں کی کمی اور انتظامی مسائل سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے نیا انتظامی و ترقیاتی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی براہِ راست نگرانی میں قائم اس نظام کا مقصد سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنا اور عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی مؤثر بنانا ہے۔ اس کے تحت مقامی نمائندوں، خصوصی ترقیاتی سیکرٹریٹ اور متعلقہ سرکاری محکموں کو ایک مربوط طریقۂ کار کے تحت منسلک کیا گیا ہے۔
نئے نظام میں شامل 12 اضلاع
اس انتظام میں سابقہ قبائلی علاقوں کے آٹھ اضلاع باجوڑ، خیبر، مہمند، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان بالا اور جنوبی وزیرستان زیریں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چار جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔
یہ علاقے طویل عرصے سے بدامنی، معاشی سرگرمیوں میں تعطل اور بنیادی سہولتوں کی ناکافی دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود انتظامی استعداد اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کی ضرورت برقرار ہے۔
