دنیا 2 نومبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 714

خبر کی تلاش میں خطرہ مول لینے والے صحافیوں کی حفاظت کون کرے گا؟

خبر کی تلاش میں خطرہ مول لینے والے صحافیوں کی حفاظت کون کرے گا؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 12:31 شام

پاکستان میں صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ کسی علاقے میں سکیورٹی آپریشن یا مسلح تصادم کی کوریج کرنا ہو، کوئی احتجاجی مظاہرہ ہو یا کسی حساس واقعے کی رپورٹنگ، فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو اپنی حفاظت کا اہم مسئلہ درپیش ہے۔

 تاہم کئی صحافی ایسے ہیں جن کے پاس بلٹ پروف جیکٹ، ہیلمٹ اور دیگر بنیادی حفاظتی سامان بھی موجود نہیں ہوتا جب کہ بعض میڈیا ادارے اپنے عملے کو یہ سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں رپورٹنگ کرنے والے فری لانس صحافی اسلام گل آفریدی بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں فیلڈ میں کام کے دوران کسی حفاظتی کٹ کی سہولت میسر نہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

’بغیر حفاظتی سامان کے فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں‘

اسلام گل آفریدی کے مطابق وہ اور ان جیسے کئی دوسرے صحافی ایسے علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہیں جہاں سکیورٹی صورت حال غیر یقینی رہتی ہے، لیکن ان کے پاس بلٹ پروف جیکٹ یا ہیلمٹ جیسے حفاظتی آلات موجود نہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر، صحافتی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف حفاظتی سامان کی فراہمی ہی کافی نہیں بلکہ صحافیوں کو اس کے درست استعمال اور خطرات سے نمٹنے کے لیے تربیت بھی دی جانی چاہیے۔

اسلام گل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ان جیسے کئی صحافی حفاظتی آلات کے بغیر فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں، اس لیے متعلقہ اداروں کو ان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔‘