اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟
اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟
آئے روز کوئی گروہ اسلام آباد پر یلغار کا اعلان کرتا ہے اور پھر سارا شہر محصور ہو جاتا ہے، سڑکیں بند، تعلیمی ادارے بند، شہر کو آنے والے راستے بند، موٹر وے بند۔ سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں کس جرم کی سزا دی جاتی ہے؟
افسر شاہی اور پارلیمان میں بیٹھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لیے اسلام آباد کی نوعیت بھلے ایک خزانے جیسی ہو، عام آدمی کے لیے یہ غمِ روزگار ہے۔
چھوٹے شہروں میں سہولیات ہوتیں تو لوگ ادھر کا رخ کیوں کرتے؟ ساری جمع پونجی خرچ کر کے، لوگ یہاں آتے ہیں اور جعلی سوسائٹیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو سر عام پلاٹ بیچ رہی ہوتی ہیں اور ان کی اشتہاری مہم سے پورا شہر سجا ہوتا ہے۔ سی ڈی اے ان کی پوری سہولت کاری کرتا ہے اور جب پردیس سے آیا کوئی عام آدمی گھر بنا لیتا ہے تو اسے نوٹس چلا جاتا ہے کہ اے مبینہ معزز شہری، تمہارا مکان جس سوسائٹی میں ہے وہ ناجائز ہے۔
اس مرحلے سے کوئی گزر جائے تو پھر سڑکوں پر غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ کچھ معلوم نہیں، بالادست اشرافیہ کا کون سا قافلہ، کس وقت، کس سڑک سے گزرے گا، جس کے احترام میں روٹ لگا دیا جائے گا۔ اچھی بھلی سڑک رواں ہوتی ہے کہ اچانک راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔
راستہ بند کرنے والے نہ وجہ بتاتے ہیں، نہ متبادل راستے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بچے سکولوں میں چھٹی کے بعد انتظار کر رہے ہوتے ہیں، والدین سڑک پر اپنی بے بسی پر تلملا رہے ہوتے ہیں۔
18 ستمبر، 2026 کو شہری اسلام آباد کے ریڈ زون کے ارد گرد رکھے گئے شپنگ کنٹینرز کے قریب سے گزر رہے ہیں (اے ایف پی)
