ایران کے ساتھ تنازع امریکہ کے لیے ’معمولی بات‘ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
ایران کے ساتھ تنازع امریکہ کے لیے ’معمولی بات‘ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کا تنازع امریکہ کے لیے ’معمولی بات‘ (Small Potato) ہے۔
انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس مؤقف کا بھی دفاع کیا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ مہینوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے حملے کوئی ’جنگ‘ نہیں ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اوول آفس میں بات چیت کے دوران جب ان سے جے ڈی وینس کے گذشتہ روز دیے گئے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے اب ’وقفے وقفے‘ سے ہو رہے ہیں اور ’بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔‘
اس تنازعے پر امریکی ٹیکس دہندگان کے ساڑھے 37 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں اور 18 امریکی فوجی اہلکار جان گنوا چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ (جے ڈی وینس) کیا کہہ رہے ہیں؟ میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیوں کہ یہ ہمارے لیے معمولی بات ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘
