دنیا 27 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 707

ایران کے خلاف امریکہ کی بدلتی جنگی حکمت عملی

ایران کے خلاف امریکہ کی بدلتی جنگی حکمت عملی

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 1:16 شام

ایران کے خلاف امریکی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کو صرف جنگی طیاروں، بحری بیڑوں اور بموں کی تعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ واشنگٹن اب ایران کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت، عسکری رابطوں اور معاشی وسائل کو مربوط دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شواہد سے ایسی حکمت عملی ابھرتی ہے جس میں دور سے حملہ، مسلسل نگرانی، سمندری ناکہ بندی اور مذاکرات ساتھ چلتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ تکنیکی برتری سیاسی اطاعت کیسے پیدا کرے گی؟

23 اکتوبر کی برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان میں توانائی کے ڈھانچے، جوہری تنصیبات، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم منصوبہ تیار ہونا حملے کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اسی روز استنبول میں علاقائی اور یورپی وزرائے خارجہ نے نئی کارروائی سے جنگ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ اس لیے موجودہ فوجی تیاری کو سفارتی دباؤ اور ممکنہ جنگ، دونوں کے تناظر میں پڑھنا ضروری ہے۔

اس تبدیلی کا سرا جون 2025 کا آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہے۔ امریکی تفصیلات کے مطابق سات بی ٹو بمباروں نے 14 جی بی یو 57 بم استعمال کیے جبکہ آبدوز سے ٹام ہاک میزائل داغے گئے۔ ہدف ایران کی تین جوہری تنصیبات تھیں۔ بی ٹو کی سٹیلتھ خصوصیات ریڈار پر شناخت مشکل بناتی ہیں جبکہ بھاری بم مضبوط زیر زمین تعمیرات کے خلاف بنائے گئے ہیں۔ یہاں قوت کا ارتکاز چند منتخب اہداف پر تھا: پوری ریاست کی مسلسل جنگی صلاحیت مختلف مسئلہ ہے۔

28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے آپریشن ایپک فیوری میں دائرہ وسیع ہوا۔ پینٹاگون نے ایرانی میزائل، ان کی پیداوار، بحری قوت اور دوسرے سلامتی ڈھانچوں کی تباہی کو مقاصد میں شمار کیا۔ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام بھی اعلان کا حصہ رہی۔ اس کا مفہوم ہے کہ واشنگٹن موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ انہیں دوبارہ بنانے کی صلاحیت پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ذخیرہ ختم ہونے اور صنعتی صلاحیت ختم ہونے کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔

27 اپریل، 2026 کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے کے دوران اے ایف پی کا فوٹوگرافر تصویر بنا رہا ہے (اے ایف پی)