دنیا 6 نومبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 551

انڈیا: چلتی بس سے دھکا دیے جانے پر خاتون کنڈکٹر کی موت

انڈیا: چلتی بس سے دھکا دیے جانے پر خاتون کنڈکٹر کی موت

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 4:00 شام

انڈیا میں ٹکٹ کے پیسوں پر ہونے والے جھگڑے کے دوران مبینہ طور پر چلتی گاڑی سے دھکا دیے جانے کے بعد ایک خاتون بس کنڈکٹر جان سے چلی گئیں۔

تلنگانہ سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی 24 سالہ کنڈکٹر گنڈلا پراولیکا بدھ کو ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

پراولیکا کو 25 اکتوبر کو ریاست تلنگانہ کے گاؤں مٹاگوڈیم کے قریب چلتی بس کے پچھلے پہیوں کے نیچے آ کر شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

مبینہ طور پر ایک خاتون مسافر نے اپنے کم سن بیٹے کے ٹکٹ اور بقیہ پیسوں پر ہونے والی تلخ کلامی کے دوران انہیں چلتی گاڑی سے دھکا دے دیا۔

ملزم خاتون اپنے بیٹے کے ہمراہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً نو بجے بس میں سوار ہوئیں اور اپنے بیٹے کے لیے 10 انڈین روپے (0.079 پاؤنڈ) کا ٹکٹ خریدنے کے لیے کنڈکٹر کو 100 انڈین روپے (0.79 پاؤنڈ) کا نوٹ دیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق مونیکا کے نام سے شناخت کی گئی ملزم خاتون نے خواتین کے لیے ریاست کی مفت بس سکیم کے تحت سفر کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اطلاعات کے مطابق کنڈکٹر کے پاس کھلے پیسے نہیں تھے اور انہوں نے مسافر خاتون سے بقیہ رقم بعد میں لینے کو کہا، جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔

اس کے بعد مسافر خاتون نے مبینہ طور پر کنڈکٹر کو چلتی گاڑی سے دھکا دے دیا، تاہم مسافر نے دعویٰ کیا کہ پراولیکا بس کے پائیدان پر کھڑی تھیں اور حادثاتی طور پر نیچے گر گئیں۔

ہسپتال میں 10 دن تک زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد پراولیکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ مقامی پولیس نے مشتبہ خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ اے ریونتھ ریڈی نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پراولیکا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ریاستی حکومت نے متاثرہ خاتون کی والدہ کے لیے نوکری، اہل خانہ کے لیے ایک مکان اور 10 لاکھ انڈین روپے (7,859 پاؤنڈ) معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کے محکمے کے ملازمین نے پراولیکا کی موت پر بدھ کو ہڑتال کی۔