یمنی فورسز کی باب المندب کی جانب پیش قدمی
یمنی فورسز کی باب المندب کی جانب پیش قدمی
یمن کی حکومت کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے پیر کو باب المندب آبنائے کے اطراف سے موکا شہر تک تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے ان علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی اور حوثیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔
اس کے ردعمل میں حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی ریفائنری، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط فوجی اڈہ شامل ہیں۔
ان دعوؤں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی عرب اور آرامکو نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
حکومت کے چار ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز نے سعودی فضائی حملوں کی بھاری حمایت کے ساتھ پیر کو رات دیر گئے موکا کے مضافات تک رسائی حاصل کر لی جبکہ حوثی جنگجو پہاڑی علاقوں کی جانب پیچھے ہٹ رہے تھے۔
یمنی وزارت دفاع کے مطابق شہر پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
اگر اس پیش قدمی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے بحیرہ احمر کے تیل کی ایک اہم گزرگاہ پر حوثیوں کی گرفت کمزور ہو جائے گی، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش کے ساتھ توانائی کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر رہی ہے، تاہم حوثی دیگر مقامات سے ڈرونز کے ذریعے بحری جہازوں کو اب بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یمن میں کئی ہفتوں سے مختلف محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔ یہ خانہ جنگی امریکہ اور ایران کی جنگ کے نتیجے میں دوبارہ شروع ہوئی۔ حوثی باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سعودی شہروں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرونز فائر کر رہے ہیں۔
حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے بھی پیر کو رات دیر گئے کہا کہ بحیرہ احمر سے متصل یمن کے صوبے حدیدہ میں بحری افواج نے ایک فوجی کارروائی کی ہے۔
سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کی ایک بکتر بند گاڑی 3 اکتوبر 2026 کو تعز شہر کے مغرب میں جبل حان محاذ کے قریب ایک درخت کے نیچے موجود ہے (اے ایف پی)
