دنیا 5 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 377

حضرو کے گاؤں میں کچرے سے کھاد تیار کرنے کا منفرد منصوبہ

حضرو کے گاؤں میں کچرے سے کھاد تیار کرنے کا منفرد منصوبہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 12:39 شام

اٹک کی تحصیل حضرو کے گاؤں ویسہ میں کچرے کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے وسائل میں تبدیل کرنے کا منفرد تجربہ جاری ہے جہاں انمول ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی، ری سائیکلنگ، نامیاتی کھاد کی تیاری اور روزگار کو ایک ہی نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔

منصوبے کا آغاز کرنے والی انمول ویلفیئر سوسائٹی کے صدر وسیم خان کے مطابق گاؤں کو صاف ستھرا، سرسبز اور ماحول دوست بنانے کا سفر 2018 میں شروع ہوا۔ ابتدا میں کچرا روایتی انداز میں ایک جگہ پھینک دیا جاتا تھا تاہم زمین، ماحول اور زیر زمین پانی پر اس کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر کچرے کو سائنسی اور منظم انداز میں ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت مخیر حضرات کے تعاون سے ویسہ گاؤں میں پانچ کنال اراضی پر انمول ری سائیکل سینٹر قائم کیا گیا جس پر اب تک تقریباً پانچ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

وسیم خان نے بتایا کہ ’گھروں سے روزانہ کچرا جمع کرنے کے لیے تین لوڈر رکشے استعمال کیے جا رہے ہیں جو گھر گھر پہنچ کر کچرا اکٹھا کرتے ہیں سبزیوں ،پھلوں کے پتوں اور چھلکوں کو چھوڑ کر دیگر کچرا اسی وقت علیحدہ کرلیا جاتا ہے جب کہ پلانٹ تک پہنچنے کے بعد کچرے کی مزید چھانٹی کی جاتی ہے۔‘

گتہ، کاغذ، پلاسٹک، دھات، ہڈیاں، پتھر، ڈائپرز کو الگ کر دیا جاتا ہے جب کہ پھلوں، سبزیوں، پتوں، گھاس اور دیگر نامیاتی فضلے کو کھاد بنانے کے عمل میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

ویسہ گاؤں کو صاف ستھرا، سرسبز اور ماحول دوست بنانے کا سفر 2018 میں شروع ہوا (ندیم حیدر/انڈپینڈنٹ اردو)