دنیا 2 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 453

ہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ

ہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:41 صبح

 میں 2008 سے سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہوں۔ اس وقت فیس بک زیادہ مقبول تھا لیکن میں اس وقت کے ٹوئٹر اور یو ٹیوب کا استعمال زیادہ پسند کرتی تھی۔ فیس بک اس وقت زیادہ رشتہ دار یا دوست احباب جیسے نجی روابط کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

بعد میں بہت سے لوگوں نے اس کو ایکٹوزم، وی لاگز اور سماجی جدوجہد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٹوئٹر اس وقت بھی سماجی مسائل کی موثر آواز تھا اور اب بھی ہے۔ وہاں پر شروع سے ہیش ٹیگ اور ٹرینڈنگ بہت اہم تھے۔

 آہستہ آہستہ انصاف کی آواز کے لیے ٹوئٹر، جو ایلان مسک کی خریداری کے بعد ایکس بنا ہے، سب سے موثر آواز کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا۔ اس ہی طرح یہ پاکستانی سیاست کا محور بھی ہے۔ پاکستان کے سیاست دان، مقتدرہ، اشرافیہ، کھلاڑی ادا کار سب یہاں سے اپنے پیغام جاری کرتے ہیں۔ اس کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں کہ ٹوئٹر یعنی ایکس پر اپنی اجارہ داری بنا لیں۔ یہاں پر ٹویٹ خبر بن جاتی ہے، ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہے اور موضوع بحث بن جاتی ہے۔

یہاں پر موجود سرکاری اور بظاہر غیرسرکاری ٹیمیں اس جدوجہد میں ہوتی ہیں کہ ان کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرے۔ ان کا ذکر ہر طرف ہو۔ پر لوگ انفرادی طور پر بھی یہاں اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ سماجی مسائل کو کسی ٹیم کی مدد کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی انسانی حقوق کا معاملہ ہو وہ خود ہی زیر بحث آجاتا ہے۔

میں اور میرے طرح دیگر سوشل میڈیا صارف سماجی مسائل کو لے کر بہت آواز اٹھاتے ہیں۔ 2009 سے ٹویٹ کرتے ہوئے اور ظلم کا شکار لوگوں کے لیے ہیش ٹیگ استمال کرتے ہوئے مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میں اور اہل خانہ بھی ایک دن ہیش ٹیگ بن جائیں گے۔ اب بھی جب کوئی مرحوم صحافی ارشد شریف لیے آواز بلند کرتا ہے وہ جسٹس فار ارشد شریف کا #ہیش ٹیگ لگانا نہیں بھولتا۔

9 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’کوائشو‘ پر اپنے چینل کو سکرول کر رہی ہیں (گریگ بیکر / اے ایف پی)