دنیا 30 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 260

ہندو وفد کے دورے پر خواتین عملہ ہٹانے کا تنازع، ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی

ہندو وفد کے دورے پر خواتین عملہ ہٹانے کا تنازع، ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:07 صبح

ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی کے سربراہ پیٹرک برانکو روئیوو  سال کے آخر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ ہندو مذہبی گروپ کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو ہٹانے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایفل ٹاور کی آپریٹنگ سوسائٹی (Societe d’Exploitation de la Tour Eiffel) یا ایس ای ٹی ای کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برانکو روئیوو نے، جو 2018 سے اس عہدے پر ہیں، منگل کو اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کیا۔

ایس ای ٹی ای نے کہا کہ داخلی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس دورے کی منصوبہ بندی میں ’آپریشنل خامیاں اور کوتاہیاں‘ موجود تھیں، جس کے نتیجے میں خواتین عملے کو ہٹا دیا گیا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ہندو مذہبی فرقے ’بوچاسانواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا‘ جسے عام طور پر ’بی اے پی ایس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ایک وفد نے ستمبر کے آغاز میں یادگار کا دورہ کیا۔ بی اے پی ایس کے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

تقریباً 100 افراد پر مشتمل یہ وفد پیرس کے قریب بی اے پی ایس کے پہلے مندر کے افتتاح کی تقریبات میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود تھا۔

ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی ایس ای ٹی ای کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برانکو روئیوو 15 جون 2020 کو کووڈ کی وبا کے بعد پیرس میں یادگار کو عوام کے لیے جزوی طور پر دوبارہ کھولے جانے سے قبل تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں (اے ایف پی)