ہمیں اپنی بیٹیوں کو میدان دینا ہو گا، وہ ہمیں منزلیں دیں گی
ہمیں اپنی بیٹیوں کو میدان دینا ہو گا، وہ ہمیں منزلیں دیں گی
ہم نے تعلیم کو ہمیشہ کتاب، قلم، امتحان اور ڈگری کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔
ہمارے ہاں ایک کامیاب طالب علم وہ سمجھا جاتا ہے جو اچھے نمبروں سے امتحان پاس کرے، اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لے اور پھر کسی ’اچھے‘ پیشے سے وابستہ ہو جائے۔ کھیل، جسمانی سرگرمی اور میدان کو عموماً اس سفر سے الگ سمجھا جاتا ہے، جیسے کھیلنے والا بچہ پڑھائی سے بھاگ رہا ہو اور میدان میں گزارا ہوا وقت کتاب سے چوری کیا ہوا وقت ہو۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
تعلیم صرف ذہن کی تربیت کا نام نہیں۔ یہ جسم، ذہن، جذبات، کردار اور شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما کا نام ہے۔ ایک صحت مند جسم ہی ایک فعال ذہن کا بہتر ساتھ دے سکتا ہے۔ کھیل انسان کو صرف جسمانی طور پر مضبوط نہیں بناتے بلکہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، قیادت، برداشت، فیصلہ سازی، مقابلے کا حوصلہ اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں۔ یہ ہی وہ صلاحیتیں ہیں جن کی ضرورت کمرۂ جماعت سے نکل کر زندگی کے ہر میدان میں پڑتی ہے۔
اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’کھیل پڑھائی کے لیے کتنا وقت چھوڑتے ہیں؟‘ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’ہم اپنی تعلیم میں کھیل کے لیے کتنا مناسب اور بامقصد وقت مختص کرتے ہیں؟‘
خصوصاً لڑکیوں کے لیے کھیلوں کی اہمیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ کھیل انہیں صحت، خود اعتمادی اور جسمانی مضبوطی کے ساتھ یہ احساس بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے جسم، اپنی صلاحیت اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لیے کھیل کا میدان آج بھی آسان میدان نہیں۔
چترال اور گلگت ـ بلتستان کی بیٹیاں البتہ اس مشکل میدان میں بھی راستے بنا رہی ہیں۔
(ورلڈ بینک ویب سائٹ)
Work Bank Pakistan Female Population.jpeg, by farrukh.abbas
