دنیا 2 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 751

گیارہ ستمبر حملے کے پچیس سال، عالمی عسکریت پسندی کا ارتقا

گیارہ ستمبر حملے کے پچیس سال، عالمی عسکریت پسندی کا ارتقا

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:41 صبح

گیارہ ستمبر 2026 کو امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے 25 سال مکمل ہو جائیں گے، جنہوں نے دنیا میں سکیورٹی کا رخ موڑ دیا اور ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے کا آغاز کیا۔ اگلی دو دہائیوں کے دوران القاعدہ اور اس سے جیسے گروپس عالمی سکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز رہے۔

’دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ‘ کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان حکومت کا اس بنیاد پر خاتمہ کر دیا گیا کہ انہوں نے القاعدہ کے خلاف تعاون کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم، 25 سال بعد طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں ہیں اور القاعدہ اب بھی طالبان کا مضبوط اتحادی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی دہشت گردی نمایاں طور پر بدل چکی ہے۔

امریکہ اور چین کی جیو پولیٹکل رقابت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی جگہ لے لی ہے، جس کے نتیجے میں انسدادِ دہشت گردی اب بین الاقوامی سکیورٹی کے اعلیٰ ایجنڈے میں شامل نہیں رہی۔ عالمی دہشت گردی کا روپ اب بدل چکا ہے۔ ایشیا اور افریقہ جیسے کچھ خطوں میں یہ اب بھی وجودی خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ یورپ اور امریکہ جیسے علاقوں میں اس میں کمی آئی ہے اور اب یہاں اس سطح کی ہنگامی صورت حال کی ضرورت نہیں رہی جو نائن الیون حملوں سے پہلے کے سالوں میں دیکھی گئی تھی۔

درج ذیل اہم رجحانات آج عالمی دہشت گردی کی موجودہ نوعیت کو تقویت دیتے ہیں۔

20 اکتوبر، 2022 کی اس تصویر میں ٹوگو کے پولیس اہلکار دہشت گردوں کے روپ میں انسداد دہشت گردی کی مشقوں میں شریک ہیں (اے ایف پی)