دنیا 13 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 587

گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند

گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 2:05 صبح

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں پیر کو غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج شہر میں احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جب کہ کینٹ کے داخلی و خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔

صدر پاکستان نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ایمرجنسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

سکیورٹی خدشات کے باعث شہر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، اسکول اور یونیورسٹیاں آج بند ہیں، جب کہ مختلف چوراہوں پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

شہر کے ایک چوراہے پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گذشتہ 72 گھنٹے سے ڈیوٹی پر ہیں اور انہیں تاحکمِ ثانی چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس سے قبل خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے امن و امان کی صورت حال بگڑنے کی صورت میں فورس استعمال کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں، جن میں ربڑ کی گولیاں چلانے اور لاٹھی چارج کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔

بازار کھلے، مگر کاروباری سرگرمیاں متاثر

شہر کی اہم مارکیٹیں اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں، تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی کمی اور راستوں کی بندش کے باعث بازاروں میں بھی معمول سے کم چہل پہل دکھائی دے رہی ہے۔

پشاور صدر کی شفیع مارکیٹ کے دکاندار راحت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راستوں کی بندش اور بی آر ٹی سروس کی معطلی کے باعث مارکیٹ میں گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’گورنر راج لگ گیا ہے تو اب راستوں کو کھولنا چاہیے تاکہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں کیونکہ راستوں کی بندش سے مارکیٹ پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ ‘

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگنے کے بعد 12 اکتوبر، 2026 کو پولیس اہلکار شہر کی ایک بازار میں چوکس کھڑے ہیں (اے ایف پی)