پاکستان 2 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 827

گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ

گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:15 شام

خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے معاملے پر شروع ہونے والی سیاسی کشیدگی اب ملک کے دو ایسے صوبوں کی سکیورٹی صورت حال کے موازنے تک پھیل گئی ہے، جو شدت پسندوں کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر رہے ہیں۔ وفاقی حکام جہاں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کا حوالہ دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن جماعت بلوچستان میں زیادہ جانی نقصان کی نشاندہی کر رہی ہے۔

یہ بحث اس ہفتے اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو ایک ’آئینی آپشن‘ قرار دیا۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال میں صوبہ لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو غیر معمولی حالات میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے اس موقف کا جواب دیتے ہوئے بحث کا رخ ہمسایہ صوبے بلوچستان کی جانب موڑ دیا۔

انہوں نے 30 ستمبر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’ہمیں گورنر راج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پہلے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کریں جہاں حکومت کی 80 فیصد عملداری ختم ہو چکی ہے۔‘

بلوچستان میں حکومتی عملداری سے متعلق ان کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

حالیہ سکیورٹی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمال کیے جانے والے پیمانے اور مدت کے لحاظ سے صورت حال کی تصویر مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کی تعداد اور ان حملوں میں ہونے والی اموات، خیبر پختونخوا اور اس میں ضم قبائلی اضلاع کی مجموعی تعداد سے زیادہ رہیں، تاہم صرف اگست کے مہینے میں خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع میں حملوں کی تعداد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

کوہاٹ میں 18 ستمبر 2026 کو مسجد میں بم دھماکے کے بعد پاکستانی فوج کا ایک اہلکار جائے وقوعہ پر نقصان کا جائزہ لے رہا ہے (اے پی)