دنیا 29 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 703

گوگل ارتھ کی تازہ تصاویر میں غزہ کی تباہی کے مناظر

گوگل ارتھ کی تازہ تصاویر میں غزہ کی تباہی کے مناظر

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 3:53 شام

گوگل ارتھ نے اپنی سیٹلائٹ تصاویر اپ ڈیٹ کی ہیں، جن میں غزہ میں ہونے والی تباہی کا بڑا حصہ نمایاں ہے اور پٹی کے بڑے حصے ملبے کا ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں 141 مربع میل پر محیط اس علاقے میں زیادہ تر رہائشی مکانات، ہسپتال، سکول اور دیگر عمارتیں متاثر یا تباہ ہوچکی ہیں۔ غزہ کو دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نیتن یاہو کی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں، آزاد تفتیش کاروں اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔

دی انڈپینڈنٹ کے صحافی بیل ٹریو نے گذشتہ سال جنگ سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لیا اور وہاں کبھی رونق رکھنے والے شہروں کے ’جھلسے ہوئے کھنڈرات‘ دیکھے، جو ان کے بقول غزہ کو ’راکھ اور تباہی‘ میں تبدیل کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے دیو قامت مخلوقات یہاں موجود ہر چیز کو روند گئی ہوں۔ دیوہیکل دانتوں نے ان چند عمارتوں کے بھی ٹکڑے نوچ ڈالے ہیں جو اب بھی زمین پر کھڑی ہیں، جبکہ باقی سب کچھ قدموں تلے کچلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔‘

ڈبلن سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن بیری اینڈروز نے لکھا کہ ’غزہ کی گوگل سیٹلائٹ تصاویر میں ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ واقعی حیران کن ہے، اور اب یہ سب کے سامنے ہے۔‘

یہ واضح نہیں کہ تصاویر کب اپ ڈیٹ کی گئیں۔ دی انڈپینڈنٹ نے گوگل سے اس حوالے سے مؤقف طلب کیا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی تفتیش کاروں کو غزہ کے تمام علاقوں تک رسائی دی جائے تاکہ مبینہ خلاف ورزیوں کے شواہد اکٹھے اور ان کی دستاویز بندی کی جاسکے، جبکہ ملبے کے نیچے سے انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ان دو تصاویر میں غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملوں سے پہلے اور بعد کی تبدیلیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (گوگل ارتھ)