دنیا 10 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 419

گمٹی بازار کی جگ مائی: تقسیم کے بعد کے لاہور میں رواداری کی مثال

گمٹی بازار کی جگ مائی: تقسیم کے بعد کے لاہور میں رواداری کی مثال

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:59 صبح

تقسیمِ ہندوستان کے حوالے سے کشت و خون کی داستانیں عام ہیں، لیکن متعدد شہروں اور قصبوں میں ہمدردی اور انسانیت کے ایسے قصے بھی ملتے ہیں، جنہیں سن کر آدمیت پر ایمان لانے کو جی چاہتا ہے۔

ایسی ہی ایک کہانی گمٹی بازار کی جگ مائی کی ہے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے لاہور سے واقفیت رکھنے والے اکثر لوگ جگ مائی کے نام سے واقف ہیں لیکن رفتہ رفتہ وقت نے ان کے کردار پر گلابی جاڑے کی چادر تان دی۔

جگ مائی کا تعلق لاہور کے مشہور گمٹی بازار سے تھا۔ گمٹی بازار لوہاری گیٹ میں واقع ہے۔ تقسیم سے پہلے اس علاقے کی بیشتر آبادی غیر مسلم اکثریت پر مبنی تھی۔ اگست 1947 میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت  ہندوستان ہجرت کر گئی، لیکن کئی لوگوں کے لیے لاہور چھوڑنا زندگی موت کا معاملہ تھا۔ شہر سے نقل مکانی نسلوں کے سرمائے سے ہجرت ہوتی ہے۔

بہادر لوگوں نے مہینوں تک ہجرت سے انکار کیا اور استقامت سے اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ جگ مائی ان ہی لوگوں میں سے تھی۔ تقسیم کے وقت ان کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ ان کا خاندان کئی دہائیوں سے لاہور کے آب و دانہ پر زندہ تھا۔

اجاڑے کے دنوں میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کیا اور اہل محلہ میں موجود خیر خواہوں کے سمجھانے کے باوجود نقل مکانی نہیں کی۔ شروع میں یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ تقسیم کے نتیجے میں لوگوں نے گمٹی بازار کے ترک شدہ مکانوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا تھا۔ ان میں مقامی اور ہندوستانی پنجاب سے آئے ہوئے خاندان دونوں طرح کے گروہ شامل تھے۔

نئے آنے والوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس بڑھیا کو لالہ لاج پت رائے بھون میں بھیجا جائے لیکن کسی کی امید بر نہ آ سکی۔ لاج پت بھون کورٹ سٹریٹ میں واقع ہندو سکھ کیمپ تھا، جس میں لاہور سے ہجرت نہ کرنے والے افراد کو بحفاظت رکھ کر ان کی ہندوستان روانگی کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔

یہ ہال لالہ لاج پت رائے کی قائم کردہ Servants of the People Society سے وابستہ تھا۔

جگ مائی کا تعلق لاہور کے مشہور گمٹی بازار سے تھا۔ بازار کا ایک منظر (تصویر: ڈاکٹر ارسلان)