گڈز ٹرانسپورٹرز نے ایندھن سبسڈی مسترد کر دی، قیمتوں میں براہ راست کمی کا مطالبہ
گڈز ٹرانسپورٹرز نے ایندھن سبسڈی مسترد کر دی، قیمتوں میں براہ راست کمی کا مطالبہ
پاکستان میں مال بردار ٹرانسپورٹرز نے منگل کو حکومت کی ایندھن سبسڈی سکیم پر تنقید کرتے ہوئے براہ راست قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پچھلے 10 روز کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔
حکومت پاکستان نے گذشتہ دنوں موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ہدفی پٹرول سبسڈی کی مد میں 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ ’گاڑیاں چلانا اب مسلسل منافع کی بجائے نقصان کا باعث بن رہا ہے اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
حکومت نے پیر کو جاری کیے گئے پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4.42 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، نئی قیمتیں 15 ستمبر سے نافذ العمل ہیں۔
حالیہ اضافے کے بعد پانچ ستمبر کو 345.87 روپے فی لیٹر کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت 34.37 روپے بڑھ چکی ہے جبکہ اسی عرصے میں ڈیزل 378.05 روپے سے بڑھ کر 31.37 روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔
ایران اور امریکہ کی جنگ کے باعث خطے میں توانائی کی ترسیل اور بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے کہا ’قیمت میں تبدیلی عالمی واقعات کے باعث ضروری ہوئی، جن میں پلاٹس کی شرح، پریمیم، ضمنی اخراجات وغیرہ میں تبدیلیاں شامل ہیں۔‘
