غزہ کے ’امن‘ کے ایک سال میں کچھ نہیں بدلا
غزہ کے ’امن‘ کے ایک سال میں کچھ نہیں بدلا
ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت انہوں نے ’بورڈ آف پیس‘ (امن کا بورڈ) کے اپنے تصور کو فروغ دیا، جو جنوری میں حقیقت کا روپ دھار گیا۔ تاہم گذشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 2.45 ارب ڈالر کے نئے اور بڑے منصوبوں کا بڑے دھوم دھام سے اعلان کیے جانے کے باوجود ایک سوال اب بھی قائم ہے: اس ادارے اور اس منصوبے کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ آخر کس طرح لیا جائے جسے نافذ کرنے کے لیے یہ بورڈ قائم کیا گیا تھا؟
اس کے حامی گذشتہ سال 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کی طرف اشارہ کریں گے، جو اس منصوبے کا نتیجہ تھی۔ نظریاتی طور پر یہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن عملی طور پر یہ کبھی حقیقی معنوں میں نافذ ہی نہ ہو سکی اور تقریباً مکمل طور پر یک طرفہ ثابت ہوئی۔ گذشتہ 12 ماہ کے دوران اسرائیل نے غزہ میں کم از کم 1,381 فلسطینیوں کو قتل کیا۔
یہ منصوبہ بنیادی طور پر خامیوں سے بھرپور تھا کیونکہ اس میں اقدامات کی درست ترتیب موجود نہیں تھی اور قابض طاقت یعنی اسرائیل پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تھی۔ منصوبے کے مطابق امداد غزہ تک پہنچنی تھی لیکن بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، یہاں تک کہ وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضا کی ترسیل بھی اسرائیل کی جانب سے روکی جا رہی ہے۔
29 جولائی 2026 کو غزہ کی وسطی پٹی کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی حملوں سے ایک رات قبل انخلا کی وارننگ کے بعد فلسطینی تباہ ہونے والی عمارتوں کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)
