دنیا 25 اگست 2026 ⏱ 3 min read 👁 694

فیلڈ مارشل کا بلوچستان پر ڈائیلاگ کتنی اہم پیش رفت ہے، مزید کیا کرنا چاہیے؟

فیلڈ مارشل کا بلوچستان پر ڈائیلاگ کتنی اہم پیش رفت ہے، مزید کیا کرنا چاہیے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:45 صبح

بلوچستان کے مسئلے پر نوجوان سے لے کر بزرگ تک ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے لیکن مجموعی طور پر کسی نہ کسی طرح سے موجودہ صوبائی حکومت کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں گذشتہ دنوں اپنی نوعیت کا پہلا باہمی ڈائیلاگ نما ورکشاپ بلوچستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کتنی اہم ہے اور اس کے کیا مثبت نتائج نکلنے کے امکانات ہیں، اس پر بات کرنا کیوں ضروری ہے۔

اس چار روزہ ورکشاپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں  سیاسی اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد سیاسی قائدین، عمائدین پر مشتمل ایک ملٹی سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کی شکل دیکھنے کو ملی، جس میں صوبے کے حالات پر بات کرنے، اسے سمجھنے اور مستقبل کے حل کے حوالے سے بریفنگز دی گئیں اور شرکا نے اپنی اپنی آرا پیش کی۔ دنیا میں کسی بھی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ گراس روٹ کے لوگوں سے وقتاً فوقتاً اس طرح کے ڈسکورس اور ڈائیلاگ کیے جائیں۔ اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں نیک نیتی اور خلوص شامل ہو۔

 اس نوعیت کے مذاکرات کب کب ہوئے؟

 بلوچستان میں جاری تنازعے میں شدت سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کا صدر پرویز مشرف کے دور میں قتل سے آئی۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بلوچستان کسی کو سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس دوران حالات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے، مگر ایک نئی لہر اور شدت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب 2020 میں کراچی یونیورسٹی میں چینی ٹیچرز کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ ہوا، اور اب مرد و خواتین کے اس طرح کے حملے بھی معمول بنتے جا رہے ہیں۔

  صدر پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ہوئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نواب صاحب بھی اس حوالے سے آمادہ تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ جہاز انہیں لینے کے لیے آ رہا ہے، مگر جہاز نہیں آیا۔  تاہم، دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2005 میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ باقاعدہ سیاسی مذاکرات کی ایک اہم کوشش بھی ہوئی۔ اس عمل میں چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے نواب اکبر بگٹی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ایک سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کی۔ اس عمل کے تحت سُوئی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان راستہ کھولنے اور بعض چیک پوسٹیں ختم کرنے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور آئے، تاہم یہ مذاکرات پائیدار سیاسی حل تک نہ پہنچ سکے۔ 

21 اگست 2026 کو اسلام آباد میں بلوچستان ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)