’دبئی چلو‘ سے ’ریاض چلو‘ تک
’دبئی چلو‘ سے ’ریاض چلو‘ تک
میں کراچی کے ایک پاسپورٹ آفس میں تھی جب ایک خاتون اپنے نومولود بچی کے ساتھ آ کر میرے برابر میں بیٹھ گئیں۔ بچی شور شرابے کے باوجود کمبل میں لپٹی سو رہی تھی، اس بات سے بے خبر کہ اسے اپنی زندگی کی پہلی سرکاری دستاویز ملنے والی ہے۔
وہ اکیلے نہیں تھے۔ ہمارے سامنے ایک اور خاندان بیٹھا تھا، ان کے ساتھ بھی ایک شیر خوار بچہ تھا اور وہ بھی اپنی باری کے منتظر تھے۔ مجھے اندازہ تھا کہ انتظار کچھ طویل ہو گا، اس لیے میں نے بات چیت شروع کر دی۔ میں نے پوچھا کہ وہ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نومولود بچی کے والد نے کہا، سعودی عرب۔ عمرے کے لیے نہیں، چھٹیاں گزارنے کے لیے بھی نہیں۔ کام کی تلاش میں قسمت آزمانے کے لیے، وہاں ان کا ایک کزن تھا جو انہیں آنے کے لیے کہہ رہا تھا۔
ہمارے سامنے بیٹھے جوڑے نے پرجوش انداز میں کہا، ’ہم بھی!‘
’میرا بھائی پانچ سال سے ریاض میں ہے اور مجھے بھی مسلسل کہہ رہا ہے کہ آ کر اپنی قسمت آزماؤں۔‘ وہ شخص سافٹ ویئر ڈویلپر تھا۔
میں یہ واضح کر دوں کہ یہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ یہ کوئی سروے نہیں۔ میں نے ایک صبح ایک دفتر میں چند لوگوں سے بات کی۔ یہ اعداد و شمار نہیں ہیں اور میں انہیں اس طرح پیش بھی نہیں کروں گی۔ لیکن کبھی کبھی ایک کمرہ آپ کو ایسی بات بتا دیتا ہے جو اعداد و شمار نہیں بتا سکتے۔
دونوں خاندانوں کا منصوبہ ایک ایسے سفر کا تھا جو کچھ چھٹیاں گزارنے اور کچھ حالات کا جائزہ لینے کے لیے تھا۔ انہیں اپنے بچوں کے پاسپورٹ درکار تھے اور امید تھی کہ یہ ملتے ہی وہ جلد از جلد روانہ ہو جائیں گے۔ پھر حملے شروع ہو گئے۔ حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز نے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض بھی شامل تھا، جہاں گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 12 افراد مارے گئے۔ پروازیں معطل ہو گئیں۔ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔
اس کے بعد جو ہوا، اس نے مجھے حیران کر دیا۔
