دنیا 12 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 773

چینی فوج کی پیش قدمی، انڈیا کے سرحدی دیہات کے رہائشی خوف کا شکار

چینی فوج کی پیش قدمی، انڈیا کے سرحدی دیہات کے رہائشی خوف کا شکار

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:59 صبح

چین کے ساتھ انڈیا کی سرحد کے دور دراز دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جہاں قبائلی برادریوں کا کہنا ہے کہ انہیں تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے یعنی آگے بڑھتی ہوئی چینی فوج کے باعث اپنے آبائی یاک چرانے اور شکار کرنے کی زمینوں سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کو موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر اروناچل پردیش میں انڈیا اور چین کی متنازع سرحد کے ساتھ اور اس کے قریب متعدد مقامات پر بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے توسیع کو ظاہر کرتی ہیں، جن میں نئی عمارتیں، سڑکیں اور ہیلی پیڈز شامل ہیں۔

یہ تصاویر ہمالیہ میں سرحد کے انتہائی ناقابل رسائی حصوں میں سے ایک کے ساتھ بدلتے ہوئے منظر نامے کا ایک نادر بصری ریکارڈ پیش کرتی ہیں، جہاں علاقائی دعوؤں کے تنازع اور مستقل انڈین موجودگی برقرار رکھنے میں مشکل نے سرحد کے قریب رہنے والی برادریوں کو تیزی سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

تکوک مرا نے انڈیا کے اروناچل پردیش میں سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر دور اپنے دور دراز گاؤں سے فون پر دی انڈپینڈنٹ سے بات کی، جس پر چین مکمل طور پر دعویٰ کرتا ہے اور اسے زنگنان یا جنوبی تبت کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی فوج سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، اگر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے۔

تکوک مرا کا کہنا ہے: ’چینی اس وقت ہماری آبائی زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ہم یہیں کھاتے ہیں، زندہ رہتے ہیں اور اپنا روزگار چلاتے ہیں اور یہ ہماری زمین ہے۔ وہ پہلے ہی انڈین علاقے کے اندر بہت دور تک داخل ہو چکے ہیں۔ 

’میں قطعی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کتنے کلومیٹر رقبہ پر قبضہ کیا ہے، لیکن انہوں نے کافی حصہ لے لیا ہے۔‘

17 جون، 2020 کو چین کی سرحد پر واقع علاقے گن گیر میں دیہاتی لکڑیاں لے جا رہے ہیں جب کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کا اہلکار سرحد سے ملحق شہر لیہہ جانے والی شاہراہ پر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)