دنیا 5 ستمبر 2026 ⏱ 4 min read 👁 315

ایک ماہ تک ہر کھانے کے بعد 15 منٹ چہل قدمی کے حیرت انگیز اثرات

ایک ماہ تک ہر کھانے کے بعد 15 منٹ چہل قدمی کے حیرت انگیز اثرات

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:04 صبح

میں ہمیشہ ایسی آسان اور قابلِ عمل فٹنس تجاویز کی تلاش میں رہتا ہوں جو واقعی کارآمد ثابت ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ کھانے کے بعد کچھ دیر چلنے سے زیادہ آسان کوئی اور مشورہ ہو سکتا ہے۔

یہ صحت سے متعلق وہ مشورہ ہے جو مجھے فٹنس ماہرین کی جانب سے سب سے زیادہ دیا جاتا ہے، لہٰذا اگر آپ نئے موسم کے آغاز پر اپنے روزمرہ معمولات میں کچھ تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو یہ عادت آپ کے لیے حقیقی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

اس حوالے سے سائنسی شواہد بھی خاصے مضبوط ہیں۔ کھانے کے بعد چہل قدمی کے دوران گلوکوز کام کرنے والے پٹھوں کے خلیوں میں زیادہ مقدار میں منتقل ہوتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اور طویل مدت میں ذیابیطس کے خطرے سے تحفظ مل سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ پیٹ پھولنے کی شکایت کم کر سکتی ہے، دوپہر کے کھانے کے بعد آنے والی معمول کی سستی کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور وزن کم کرنے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

آپ کو زیادہ دیر تک چلنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اس موضوع پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے بعد صرف 10 سے 15 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی یہ اہم فوائد فراہم کر سکتی ہے، یعنی تھوڑی سی محنت کے بدلے خاصا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ورزش کے معمول میں تبدیلی لانے کے ارادے سے میں نے خود اس مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور کھانے کے بعد چلنے کی عادت کو آزمایا۔ نتائج خاصے حیران کن تھے۔

کھانے کے بعد چہل قدمی کے کئی فوائد

سب سے پہلے مجھے ڈاکٹر ایلروئے آگویار نے’کھانے کے بعد حرکت‘ کے تصور سے متعارف کروایا۔ وہ یونیورسٹی آف الاباما میں ایکسرسائز سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور چہل قدمی کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ورزش کے فوراً بعد آپ کا بلڈ پریشر اور خون میں گلوکوز کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح خون میں موجود اضافی گلوکوز سے نمٹنے کے لیے آپ کے لبلبے کو کم کام کرنا پڑتا ہے۔

’یہ اثر کئی سالوں اور دہائیوں تک برقرار رہ کر میٹابولک سنڈروم، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ تمام مسائل طویل عرصے میں بتدریج پیدا ہوتے ہیں، لیکن اگر آپ ورزش کریں تو ان کے سنگین مسئلہ بننے سے پہلے ہی ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

اس منطق کے مطابق کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی مفید ہو سکتی ہے، چاہے وہ جسمانی وزن کے ساتھ چند سکواٹس ہوں یا ’سولیئس پش اپ‘ جیسی معمولی ورزش، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ توقع سے کہیں زیادہ صحت کے فوائد فراہم کرتی ہے۔

جرنل ’ڈائبیٹیز کیئر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے، جبکہ ’انٹرنیشنل جرنل آف جنرل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک چھوٹی تحقیق سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد جسمانی سرگرمی کا ایک اور فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔

 چنانچہ میں نے چند ہفتوں کے لیے اپنا معمول تبدیل کیا اور دوپہر کے کھانے کے بعد اضافی چہل قدمی شروع کی تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس کا کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں۔

ابتدائی چند دن خاصے مشکل تھے، خاص طور پر شام کے وقت۔ میں عموماً رات کے کھانے کو مصروف دن کے اختتام اور سونے سے پہلے آرام کرنے کے آغاز کے طور پر دیکھتا ہوں۔ کھانا کھانے کے فوراً بعد دوبارہ گھر سے باہر نکلنا مجھے غیر فطری اور مشکل محسوس ہوتا تھا۔

واک کرنا دنیا کی سب سے کم تجویز کی جانے والی مگر سب سے مؤثر ’دواؤں‘ میں سے ایک ہے (اینواتو)