اساتذہ کا عالمی دن: وہ لوگ جنہوں نے حروف سے زندگیاں بنائیں
اساتذہ کا عالمی دن: وہ لوگ جنہوں نے حروف سے زندگیاں بنائیں
پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ کہیں تقریریں ہوتی ہیں، کہیں پھول پیش کیے جاتے ہیں، کہیں اساتذہ کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے اور کہیں سوشل میڈیا پر خوب صورت الفاظ کے ذریعے اپنے محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ مگر میرے لیے یہ ایک دن نہیں، یہ اپنی زندگی کے ان بے شمار چہروں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے مجھے صرف پڑھایا نہیں، بلکہ مجھے بنایا۔
جب میں پانچ برس کا تھا تو پہلی مرتبہ سکول کی دہلیز پر قدم رکھا۔ اس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ چھوٹی سی عمارت میری پوری زندگی کا رخ متعین کرنے والی ہے۔ مجھے تو شاید سکول جانا بھی ایک ایسی دنیا میں داخل ہونا محسوس ہوتا تھا جس کے آداب، اصول اور تقاضے ابھی میرے لیے اجنبی تھے۔ لیکن میرے ابتدائی اساتذہ نے بڑی خاموشی سے میری انگلی تھامی اور مجھے ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جس پر چلتے چلتے آج میں اپنی زندگی کے کئی عشروں کا سفر طے کر چکا ہوں۔
انہوں نے مجھے صرف الف، ب، پ اور حروفِ تہجی نہیں سکھائے۔ انہوں نے مجھے حروف سے الفاظ تک، الفاظ سے جملوں تک، جملوں سے پیراگراف تک اور پیراگراف سے مضمون تک پہنچنے کا ہنر سکھایا۔ انہوں نے مجھے اردو کے حروف سے آشنا کیا، انگریزی کے ابتدائی حروف سے متعارف کرایا، گنتی سکھائی، ایک دو لکھنا سکھایا، جمع تفریق کے وہ اصول سمجھائے جو اس عمر میں کسی پیچیدہ معمے سے کم نہ تھے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت جو کچھ ہمیں معمولی سبق معلوم ہوتا تھا، دراصل وہ ہماری پوری زندگی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
ایک حرف دوسرے حرف سے مل کر لفظ بنتا ہے، یہ ہمیں استاد نے بتایا۔ مگر شاید وہیں کہیں، انجانے میں، انہوں نے ہمیں یہ بھی سکھا دیا تھا کہ انسان بھی انسان سے مل کر بنتا ہے۔
اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی صوبائی حکومت کی جانب سے آٹھ اکتوبر 2025 کو بعض کالجوں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں (عبدالحمید)
