اقوام متحدہ کے نئے عالمی نقشے پر بعض ملک ناراض کیوں؟
اقوام متحدہ کے نئے عالمی نقشے پر بعض ملک ناراض کیوں؟
متعدد ممالک نے اقوام متحدہ کے منظور کردہ نئے عالمی نقشے میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے آغاز میں دنیا کا نیا نقشہ اپنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کی فرانس اور برطانیہ سمیت 164 ممالک نے حمایت کی۔
صرف چھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ امریکہ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
نئے نقشے میں 1569 میں تیار کیے گئے مرکٹر نقشے میں موجود خامی کو دور کیا گیا ہے، جس میں براعظم افریقہ کو گرین لینڈ کے تقریباً برابر حجم کا دکھایا جاتا تھا۔
ووٹنگ کے بعد حکومتوں اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ روایتی نقشے کی جگہ ’ایکول ارتھ‘ پروجیکشن استعمال کریں، جس کے حامیوں اور ماہرین جغرافیہ کا کہنا ہے کہ اس میں مختلف مقامات کو زیادہ درست انداز میں دکھایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر مرکٹر نقشے کو ترک کر دیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ وہ کسی متبادل نقشے کے استعمال کو لازمی قرار نہیں دے رہا بلکہ صرف ’ایکول ارتھ‘ پروجیکشن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
قرارداد منظور ہونے کے بعد امریکہ کے علاوہ کم از کم تین ممالک نے نئے نقشے میں ظاہر کی گئی تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یوکرین، جس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، نے دعویٰ کیا کہ ’ایکول ارتھ‘ پروجیکشن میں روس کے زیر قبضہ جزیرہ نما کریمیا کو یوکرین کے باقی حصے سے ہلکے رنگ میں دکھایا گیا ہے۔
روس نے 2014 میں کریمیا کو غیر قانونی طور پر اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا، جو 2022 میں یوکرین پر مکمل فوجی حملہ شروع کرنے سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔
نقشے میں کریمیا کو روس اور یوکرین دونوں سے مختلف رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ تاہم سرمئی اور زرد رنگ کی آمیزش روس کے لیے منتخب کیے گئے رنگ سے زیادہ مشابہ نظر آتی ہے۔
اقوام متحدہ میں یوکرین کے مستقل نمائندے آندری میلنک نے کہا ’اصولی طور پر یوکرین اس مسودہ قرارداد میں زیر بحث بنیادی معاملے کی مخالفت نہیں کرتا۔‘
انہوں نے کہا یوکرین نے رواں ماہ ووٹنگ سے قبل اس کی اصلاح کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اسے مثبت جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا یہ نقشہ ’پنڈورا باکس‘ کھولنے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے عالمی نقشے کے ’غلط استعمال اور تحریف‘ کی راہ ہموار ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا ’ہم سب کے لیے اور اس جنرل اسمبلی کے لیے یہ ایک انتہائی سنگین غلطی ہو گی کہ ممالک اور براعظموں کی جغرافیائی عکاسی میں ایک تاریخی ناانصافی کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، اس مسودہ قرارداد کے متن کی ایک انتہائی تشویش ناک تشریح کی گنجائش بھی پیدا کر دی جائے۔‘
ایسٹونیا، جارجیا، مالدووا، سربیا اور لتھوانیا نے یوکرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یوکرینی قانون ساز کیرا رودک نے ایک پوسٹ میں لکھا ’2026 میں اقوام متحدہ کو یہ یاد دہانی نہیں کرانی چاہیے کہ کریمیا یوکرین ہے۔ شرم کی بات ہے۔‘
(equal-earth.com)
