انڈیا میں خواتین بائیکرز کے لیے سڑکیں غیر محفوظ کیوں؟
انڈیا میں خواتین بائیکرز کے لیے سڑکیں غیر محفوظ کیوں؟
دو سال قبل دسمبر کی ایک صبح سالونی تیاگی انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے متصل شہر گروگرام میں ہائی وے پر موٹر سائیکل چلا رہی تھیں کہ ایک اور موٹر سائیکل سوار بار بار ان کی موٹر سائیکل کے قریب آنے لگا اور پھر اس نے موٹر سائیکل کو ایک طرف سے ٹکر مار دی۔
وہ شدید زخمی ہونے سے محفوظ رہیں، تاہم اس حادثے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا اور اس حادثے کے بعد موٹر سائیکل چلانے کے بارے میں ان کا رویہ بدل گیا۔
وہ دی انڈپینڈنٹ کو بتاتی ہیں: ’میں نے مکمل حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ پیڈ والی پینٹ، پیڈ والی جیکٹ، سب کچھ۔ اسی وجہ سے میں محفوظ رہی، لیکن ذہنی صدمہ بہت شدید تھا۔‘
42 سالہ تیاگی دہلی میں رہنے والی سٹاک ٹریڈر اور سنگل مدر ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر ’وانڈریس آن وہیلز‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے موٹر سائیکل چلانا ’آزادی کے احساس‘ کے لیے شروع کیا تھا، لیکن حادثے کے بعد انہوں نے اکیلے طویل سفر کرنا چھوڑ دیا۔
ان کا تجربہ انڈیا میں موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کے لیے کوئی منفرد واقعہ نہیں۔
گذشتہ ہفتے 27 سالہ شوانی چوہان گروگرام میں اپنی اپریلیا آر ایس 457 موٹر سائیکل چلا رہی تھیں کہ مبینہ طور پر ایک شخص نے گاڑی میں ان کا پیچھا کیا اور گالف کورس روڈ پر ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔
