دنیا 19 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 283

عمان کے قریب جہاز پر حملے کے بعد پاکستانی انجینیئر لاپتہ، بیٹا منتظر

عمان کے قریب جہاز پر حملے کے بعد پاکستانی انجینیئر لاپتہ، بیٹا منتظر

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:22 شام

’میرے بابا شپ پر ہیں۔‘کراچی سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد حماد عبیدہ کا تین سالہ بیٹا آج بھی اپنے والد کے بارے میں یہی کہتا ہے۔ اسے اتنا معلوم ہے کہ اس کے والد جہاز پر کام کرتے ہیں اور عموماً کئی ماہ بعد واپس آتے ہیں، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ 13 ستمبر کو عمان کے قریب جس بحری جہاز پر حملہ ہوا، اس کے بعد سے اس کے والد کہاں ہیں۔

محمد حماد عبیدہ پانامہ کے پرچم بردار جہاز ’ MT El Gaia‘ پر تھرڈ انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے اور اہل خانہ کے مطابق حملے کے وقت انجن روم میں ڈیوٹی پر موجود تھے۔ حملے کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

ان کے اہل خانہ کو اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا حماد زندہ ہیں یا نہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ پاکستانی شہری کی حتمی موجودگی کا مقام معلوم نہیں اور اس مرحلے پر ان کی موت کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا۔

حماد کی والدہ ثروت زرین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کا بیٹا تقریباً 10 سے 12 سال سے بحری جہازوں پر ملازمت کر رہا تھا اور اپنے پیشے سے متعلق مزید امتحانات کے لیے کئی مرتبہ برطانیہ بھی گیا۔

ان کے مطابق حماد کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے خاندان نے بہت کچھ خرچ کیا۔

ثروت کہتی ہیں کہ حماد کی گمشدگی نے پورے خاندان کو ایک ایسی بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔

’ہم زیرو پر کھڑے ہیں، صرف انتظار کر رہے ہیں کہ شاید اللہ پاک کوئی معجزہ دکھا دے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ حماد کا تین سالہ بیٹا ابھی چھوٹا ہے اور اپنے والد کی غیر موجودگی کو پوری طرح سمجھنے کی عمر میں نہیں۔

’وہ کبھی کبھی باتوں میں کہتا ہے کہ میرے بابا شپ پر ہیں۔ وہ بچہ ہے، اسے کیا معلوم کہ کیا ہوا ہے۔‘

والدہ کے مطابق حماد کا تین سالہ بیٹا ابھی چھوٹا ہے اور اپنے والد کی غیر موجودگی کو پوری طرح سمجھنے کی عمر میں نہیں (اہل خانہ)