دنیا 11 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 430

عہدِ نبوی سے منسوب کیرالہ کی مندر نما مسجد کی داستان

عہدِ نبوی سے منسوب کیرالہ کی مندر نما مسجد کی داستان

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 8:57 صبح

ساتویں صدی، یعنی عہد نبوی کے زمانے سے ہی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں مسلم تاجروں اور ملاحوں کی آمد کے ساتھ مساجد کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان میں کیرالہ کے ضلع تھریشور میں واقع چیرامن جامع مسجد کو ہندوستان کی پہلی مسجد اور برصغیر کی قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

مقامی مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس مسجد کو 643 عیسوی میں کیرالہ کے چیرا بادشاہ چیرامن پرومال کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ مسجد کا اصل طرز تعمیر کیرالہ کے روایتی مندروں سے مشابہ ہے۔ 

نماز پڑھنے کی جگہ کے وسط میں پیتل کا ایک بڑا چراغ دان چھت سے لٹکا ہوا ہے، جو عام طور پر مندروں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں لکڑی کی ساخت اور چھت بھی کیرالہ کے قدیم طرزِ تعمیر سے مشابہ ہے۔ 

مقامی تاریخ داں اور سکالر ہشام عدنی کے مطابق: ’زبانی تاریخ اور دیگر ثبوت وشواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی حیات مبارکہ کے دوران کیرالہ کے چیرا بادشاہ چیرامن پرومال اسلام سے متاثر ہوکر مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے اور واپسی پر ان کی طبیعت ناساز ہوگئی اور موت قریب دیکھ کر انہوں نے اپنے وارثوں کے نام خط لکھ کر علاقے میں 10 مساجد تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔‘

مقامی مؤرخین کے مطابق چیرامن مسجد 643 عیسوی میں کیرالہ کے بادشاہ چیرامن پرومال کے حکم پر تعمیر کی گئی (سہیل قاسمی/انڈپینڈنٹ اردو)