افغان تجارت کی بندش کے پاکستانیوں پر اثرات
افغان تجارت کی بندش کے پاکستانیوں پر اثرات
افغانستان کے ساتھ تجارت بند ہونے کے نقصانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک نقصان ملکی اور دوسرا عوامی سطح کا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں پاک افغان دوطرفہ تجارت 1.26 ارب ڈالر سے کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، یعنی تجارت میں تقریباً 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سرکار کو ملکی سطح پر ہونے والے نقصان کی زیادہ فکر نہیں ہے۔ ملکی سطح پر ہونے والے نقصان کا کسی حد تک ازالہ ممکن ہے۔ حکومت افغانستان کی بجائے وسطی ایشیا، ایران، خلیجی ممالک یا دوسرے ممالک کو برآمدات بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ بندرگاہوں اور دوسرے تجارتی راستوں کو زیادہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
لیکن سرحد کے ساتھ رہنے والے عام آدمی کے لیے مسئلہ اتنا آسان نہیں۔ طورخم، چمن، لنڈی کوتل، خیبر، قلعہ عبداللہ اور دوسرے سرحدی علاقوں کے عام لوگوں کے لیے متبادل روزگار پیدا کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ٹرانزٹ تجارت کے ساتھ ٹرک ڈرائیور، گودام کے مالکان، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، ہوٹل، ریسٹورنٹس، ورکشاپس، پٹرول پمپس اور چھوٹے دکان دار سمیت لاکھوں لوگوں کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔
جس شخص کی پوری زندگی سرحدی تجارت سے جڑی ہوئی ہو، اسے متبادل روزگار کہاں سے ملے گا؟
افغان حکومت کی وفد کی سربراہی صنعت تجارت کے قائم مقام وزیر الحاج نورالدین عزیزی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری کامرس محمد خرم آغا کر رہے تھے (افغان طالبان میڈیا)
