عالمی انتشار ہماری دنیا کو کدھر لے جا رہا ہے؟
عالمی انتشار ہماری دنیا کو کدھر لے جا رہا ہے؟
موجودہ عالمی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی قانون کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ مخالفین کی علاقائی سالمیت کی غیر قانونی اور یکطرفہ خلاف ورزی معمول بن گئی ہے۔ ریاستوں کے اندر اور ان کے مابین مسلح تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
مہلک خودکار ٹیکنالوجیز نے دنیا کو ایسے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جن کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ شدید قوم پرستی نے معاشروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس بڑھتے ہوئے انتشار کے درمیان، عالمی کشمکش کے چار اہم میدانوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اول، مشرقی ایشیا، جو امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کا مرکزی میدان بن کر ابھرا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، ویتنام، فلپائن اور تائیوان (جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے) کے لیے کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ آسان نہیں ہے۔
بحیرہ جنوبی چین، جہاں سے چین کی سمندری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، متعدد ممالک کے متضاد دعووں کی وجہ سے شدید تنازع کا شکار ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جاپان نے اپنی عسکری قوت میں اضافہ کرتے ہوئے کروز میزائل جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار حاصل کیے ہیں اور ڈرونز اور خودکار عسکری نظاموں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
یہ تصویر مئی 1942 میں دوسری عالمی جنگ کے موقعے پر لی گئی تھی، جس میں جاپانی سپاہیوں کو امریکی جنگی قیدی لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)
