آج اور کل کا ملازم اور خادم
آج اور کل کا ملازم اور خادم
تاریخ میں انسانی معاشرہ طبقات میں تقسیم ہو کر کلچر کے لحاظ سے بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، یہاں تک کہ اشرافیہ اور عوام میں سماجی فرق گہرا ہوتا رہا۔
انسانی معاشرے میں طبقات کی تقسیم طاقت اور دولت پر تھی۔ حکمران طبقہ اپنے سیاسی تسلط کی بنیاد پر حکومت کرتا تھا جبکہ رعایا کمزور اور وفادار ہوتی تھی۔ حکمراں طبقے کی آمدنی کے کئی ذرائع تھے۔ ان کی زرعی زمینیں تھیں۔ جن پر کسان کاشت کرتے تھے اور آمدنی کا بڑا حصہ امراء کا ہوتا تھا۔ جبکہ کسان غربت اور افلاس میں رہتے تھے۔ آمدنی کا دوسرا ذریعہ جنگیں تھیں۔ فتح کی صورت میں مال غنیمت اور غلام حاصل کیے جاتے تھے۔
حکمراں طبقے سماجی لحاظ سے برتر اور افضل تھے۔ اس لیے کسی بھی کام کرنے کو یہ بےعزتی سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس ہر کام کے لیے ملازم اور خادم ہوا کرتے تھے۔ چونکہ ہندوستان میں آبادی زیادہ تھی اس لیے بےروزگاری کی وجہ سے معمولی تنخواہ پر ملازم مل جایا کرتے تھے۔ امراء یہ تنخواہیں بھی پابندی سے نہیں دیتے تھے۔
جب کوئی کسی امیر کے گھر کا ملازم ہو جاتا تھا تو اس کی کوشش ہوتی تھی کہ اس کی ملازمت مستقل رہے۔ اس لیے وہ وفاداری کے ساتھ مالک کی خدمت کرتا تھا اور اکثر ملازم کئی نسلوں تک ایک ہی امیر کے خاندان کے ہوتے تھے۔ ان کو خانہ زاد کہا جاتا تھا، اور یہ کلچر کا حصہ تھا کہ جس کا نمک کھایا ہے اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے۔
1855 میں کاٹھیاواڑ کے غلام
(پبلک ڈومین)
